چیف منسٹر کے سی آر فکرمند، مذہبی جماعتوں اور رہنماؤں کے پاس حاضری، مسلمانوں کا رجحان کانگریس کی طرف
حیدرآباد 23 نومبر (سیاست نیوز) تلنگانہ اسمبلی انتخابات کی مہم اختتامی مرحلہ میں داخل ہوچکی ہے، ایسے میں اہم سیاسی پارٹیوں کو مسلم اقلیت کے ووٹ کی فکر شدت سے لاحق ہوچکی ہے۔ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد عام طور پر اقلیتی رائے دہندوں کا رجحان بی آر ایس کی طرف رہا۔ تلنگانہ میں کانگریس پارٹی گزشتہ دو انتخابات کے موقع پر کمزور موقف میں دکھائی دے رہی تھی۔ مجوزہ انتخابات میں بی آر ایس کو کسی رکاوٹ کے بغیر تیسری مرتبہ کامیابی کا یقین تھا اور انتخابی ماحول کے آغاز تک بھی بی آر ایس خود کو کسی چیلنج کے بغیر ہیٹ ٹرک کا خواب دیکھ رہی تھی۔ کانگریس ہائی کمان نے تلنگانہ میں پارٹی کی کمان ریونت ریڈی کو سونپنے کے بعد سینئر قائدین میں اختلافات اور ناراضگیاں ختم کرنے پر توجہ مرکوز کی جس کے نتیجہ میں کانگریس پارٹی مضبوط موقف کے ساتھ بی آر ایس کے لئے چیلنج بن چکی ہے۔ کرناٹک اور اروناچل پردیش میں کانگریس کی کامیابی کا راست اثر تلنگانہ کی انتخابی مہم پر دکھائی دے رہا ہے۔ کرناٹک کی طرح مسلم رائے دہندوں نے تلنگانہ میں متحدہ رائے دہی کا فیصلہ کیا تاکہ ترقی اور فلاح و بہبود کے سلسلہ میں حکومت کو پابند بنایا جاسکے۔ گزشتہ 10 برسوں سے برسر اقتدار بی آر ایس کو اِس مرتبہ مسلم ووٹ حاصل کرنا آسان نہیں رہے گا۔ تبدیلی کی اِس لہر کا راست فائدہ کانگریس کو ہوا ہے اور بیشتر حلقہ جات میں مسلم رائے دہندوں نے مقامی بی آر ایس ارکان اسمبلی کی عدم کارکردگی پر سبق سکھانے کے لئے کانگریس کی تائید کا اشارہ دیا ہے۔ کانگریس کو مسلمانوں کی تائید حاصل کرنے میں کوئی خاص محنت اِس لئے بھی کرنی نہیں پڑی کیوں کہ گزشتہ 10 برسوں سے بی آر ایس کے ساتھ رہنے والے مسلمانوں نے اس مرتبہ تبدیلی کے رجحان کے تحت کانگریس کی تائید کا من بنالیا ہے۔ تلنگانہ کے مسلم رائے دہندوں میں 60 تا 70 فیصد نے کھل کر کانگریس کی تائید کا اظہار کیا ہے اور اُمید کی جارہی ہے کہ رائے دہی کے دن تک یہ فیصد بڑھ کر 80 تک پہونچ جائے گا۔ ہر تلنگانہ کے مسلمان متحدہ طور پر کانگریس کا ساتھ دیں تو اُس کے لئے اقتدار کا راستہ آسان ہوجائے گا۔ دوسری طرف اقلیتوں پر اپنے پیٹننٹ رائٹس کی طرح دعویٰ کرنے والی بی آر ایس کو اِس مرتبہ اپنی حلیف جماعت مجلس سے کوئی خاص فائدہ ہوتا دکھائی نہیں دے رہا ہے۔ چیف منسٹر کے سی آر اور بی آر ایس کے دیگر قائدین نے مسلمانوں کی تائید کے سلسلہ میں مجلسی قیادت پر مکمل انحصار کیا تھا لیکن جیسے جیسے رائے دہی کی تاریخ قریب آرہی ہے، کے سی آر کو مسلمانوں سے دوری کا احساس ستانے لگا ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق کے سی آر نے مسلمانوں کی تائید حاصل کرنے کے لئے پارٹی کے مسلم قائدین کے بجائے کے ٹی آر اور ہریش راؤ کو میدان میں اُتارا ہے۔ یہ دونوں قائدین مسلم مذہبی جماعتوں، تنظیموں اور رہنماؤں سے ملاقات کرتے ہوئے بی آر ایس کی فلاحی اسکیمات کے سبب تائید کی درخواست کررہے ہیں۔ مسلمانوں کی تائید کے لئے بی آر ایس اور کانگریس میں مسابقت شروع ہوچکی ہے جس کے تحت ہر چھوٹی بڑی جماعت، تنظیم اور ادارے سے ملاقاتیں کی جارہی ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مسلمانوں کے ووٹ کے لئے پرانے شہر کے ایسے علاقوں میں جانے سے گریز نہیں کیا جارہا ہے جو انتہائی پسماندہ اور سفر کے اعتبار سے دشوار کن ہے۔ آخر لمحہ میں بی آر ایس اور کانگریس کی مہم نے مسلمانوں کے ووٹ کو منقسم کرنے کی کوشش کی ہے۔ جمعیۃ العلماء جو مذہبی اعتبار سے ایک نمائندہ تنظیم ہے، اُس کے دونوں گروپ دو علیحدہ پارٹیوں کی تائید کررہے ہیں۔ مجلس کی سرپرستی میں چلنے والے یونائیٹیڈ مسلم فورم نے بی آر ایس کی تائید کا اعلان کردیا ہے جبکہ جماعت اسلامی نے سیکولرازم اور فرقہ پرستی کو بنیاد بناکر کانگریس، بی آر ایس اور بعض دیگر پارٹیوں کی تائید کا اعلان کیا ہے۔ جماعت اسلامی نے 119 میں 70 اسمبلی حلقوں پر کانگریس کی تائید کی ہے۔ اب جبکہ انتخابی مہم کے لئے صرف چند دن باقی ہیں، دیکھنا ہوگا کہ مسلمان متحدہ طور پر کرناٹک کی طرح رائے دہی میں حصہ لے کر کس پارٹی کو اقتدار تک پہونچائیں گے۔ سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ مسلمانوں نے مجموعی طور پر کانگریس کی تائید کا من بنالیا ہے اور لمحہ آخر میں کے سی آر اور اُن کی ٹیم کی جانب سے مسلمانوں کی تائید حاصل کرنے کی کوششیں بے اثر ثابت ہوں گی۔