مسکان فاطمہ کو بی بی اے میں بدروکا میموریل گولڈ میڈل

   

تعلیمی سفر میں فیض عام ٹرسٹ اسپانسر ، نزہت فاطمہ کو ملٹی نیشنل کمپنی میں ملازمت ، ایڈیٹر سیاست نے کی ستائش

حیدرآباد ۔ 26 ۔ اکٹوبر : ( سیاست نیوز) : مستحق نونہالان ملت کی مدد ان کی حوصلہ افزائی اور انہیں تعلیمی و معاشی شعبوں میں آگے بڑھانے کی جب بات آتی ہے تو ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خاں اور روزنامہ سیاست کے ساتھ ساتھ فیض عام ٹرسٹ اور اس کے سکریٹری جناب افتخار حسین کے نام لیے جاتے ہیں ۔ ان دونوں شخصیتوں اور ان کے زیر قیادت دونوں اداروں نے اب تک ہزاروں کی تعداد میں ضرورت مند طلبہ کی نہ صرف مدد کی بلکہ انہیں اس قابل بنایا کہ وہ اپنے پیروں پر کھڑے ہوئے ۔ آج ہم آپ کو ملت کی ہونہار طالبہ مسکان فاطمہ کے تعلیمی کارناموں کے بارے میں بتائیں گے ۔ مسکان فاطمہ کے والد ڈاکٹر محمد عبدالقدیر کا انتقال اس وقت ہوا جب کہ مسکان کی عمر صرف دو سال تھی ۔ مسکان کا خاندان فیض عام ٹرسٹ سے رجوع ہوا چنانچہ فیض عام ٹرسٹ نے مسکان فاطمہ کی چوتھی جماعت اور ان کی بہن نزہت فاطمہ کی دوسری جماعت اور ان کے بھائی محمد عبدالسمیر کی ابتداء سے ہی تعلیم کی ذمہ داری قبول کی ۔ ان کے تعلیمی اخراجات برداشت کیے ۔ نتیجہ میں نزہت فاطمہ نے ایم بی اے کیا اور فی الوقت Synchrony International میں سینئیر ریپریزنٹیو اسوسی ایٹ کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہی ہیں جب کہ ثنا ہائی اسکول سے ایس ایس سی اور ایم ایس جونیر کالج ملک پیٹ سے انٹر میڈیٹ کے بعد مسکان فاطمہ نے بدروکا کالج آف کامرس اینڈ آرٹس سے بی بی اے کیا اور سارے کالج میں ٹاپ کیا جس پر مسکان فاطمہ کو اوکار لال بدروکا میموریل گولڈ میڈل عطا کیا گیا ۔ سکریٹری فیض عام ٹرسٹ جناب افتخار حسین اور اپنی والدہ شاہجہاں بیگم کے ہمراہ دفتر سیاست پہونچ کر ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خاں صاحب سے ملاقات کی ۔ مسکان فاطمہ ان کی بہن نزہت فاطمہ اور بھائی محمد عبدالسمیر انجینئرنگ طالب علم کی شاندار تعلیمی کارکردگی پر انہوں نے مسرت کا اظہار کرتے ہوئے نیک تمناؤں کا اظہار کیا ۔ مسکان کے خاندان کی مدد کے لیے فیض عام ٹرسٹ کے بانی جناب ذوالفقار حسین کی دختر فرحت یاسمین نے سفارش کی تھی ۔ مسکان فاطمہ اور ان کی بہن نزہت فاطمہ کامیابی کی ایک بہترین مثال ہے اور یہ طالبات دوسری دختران ملت کو عزم و حوصلہ اور امید کا پیغام دیتی ہیں ۔ مسکان کے مطابق سکریٹری فیض عام ٹرسٹ عاجزی و انکساری کا پیکر ہیں ان کے دل میں ہمیشہ ضرورت مند طلبہ کی مدد کا جذبہ موجزن رہتا ہے ۔ جناب زاہد علی خاں اور جناب افتخار حسین جیسی شخصیتوں نے ہزاروں ضرورت مند طلباء وطالبات کی زندگیوں میں انقلاب برپا کیا ۔ مسکان فاطمہ کے مطابق والدین کو اپنی بیٹیوں کو اچھی طرح پڑھا لکھانا چاہئے انہیں بوجھ نہیں سمجھنا چاہئے ۔ ساتھ ہی معاشرہ میں جہیز اور جوڑے گھوڑے کی جو لعنت ہے اسے بھی ختم کرنا چاہئے کیوں کہ لڑکے والوں کے بیجا مطالبات نے معاشرہ میں خاص کر لڑکی کے ماں باپ کو پریشان کر رکھا ہے ۔ مسکان نے فیض عام ٹرسٹ کے عطیہ دہندگان کا بھی بطور خاص شکریہ ادا کیا ۔۔