مشرف کے غیاب میں مقدمہ کی سماعت انصاف کے مغائر

,

   

Ferty9 Clinic

اس نوعیت کی سماعت اسلامی تقاضوں سے بھی ہم آہنگ نہیں : جج

لاہور ۔ 28 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) پاکستان کی ایک عدالت نے استدلال پیش کیا ہیکہ کسی بھی ملزم کے غیاب میں مقدمہ چلانے کا نظریہ فطری انصاف کے تقاضوں کو پورا نہیں کرتا۔ یہی نہیں بلکہ اسلامی تقاضے بھی اس سے ہم آہنگ نہیں ہوسکتے کیونکہ انصاف کا تقاضہ یہی ہیکہ ملزم بہ نفس نفیس عدالت میں موجود ہو اور عدالتی کارروائی کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہو (ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ نہیں)۔ یاد رہے کہ پاکستان کے سابق فوجی حکمراں پرویز مشرف نے انہیں سنائی گئی سزائے موت کے فیصلہ کو چیلنج کرتے ہوئے ایک عرضداشت داخل کی تھی جس پر سماعت کرتے ہوئے جج نے یہ ریمارک کیا۔ 74 سالہ مشرف کو گذشتہ سال 17 ڈسمبر کو اسلام آباد کی ایک خصوصی عدالت نے ملک سے غداری کے مرتکب ہونے پر سزائے موت سنائی تھی۔ اس کیس کی سماعت چھ سال سے جاری تھی۔ مشرف اس وقت دوبئی میں مقیم ہیں اور ان کی صحت ٹھیک نہیں ہے۔ لاہور ہائیکورٹ نے مشرف پر چلائے گئے مقدمہ کو 13 جنوری کو غیرآئینی قرار دیا تھا جس کے بعد مشرف کو سنائی گئی سزائے موت ازخود کالعدم ہوگئی تھی۔ یہاں اس بات کا تذکرہ دلچسپ ہوگا کہ لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس سید مظہر علی اکبر نقوی نے اس وقت کے چیف جسٹس آف پاکستان اور پانچ ہائیکورٹس کے پانچ چیف جسٹسوں سے مشاورت کے بعد خصوصی عدالت کے قیام کو پاکستانی آئین کے لئے بالکل اجنبی قرار دیا تھا جس پر کبھی بھی عمل نہیں کیا گیا اور ایسا کیا بھی نہیں جاسکتا۔ پیر کے روز بنچ نے یہ فیصلہ کیا تھاکہ مشرف پر مقدمہ چلانے کے لئے خصوصی عدالت کا قیام غیرمناسب، غیرقانونی اور کسی حدود کی نشاندہی نہیں کرتا۔ دوسری طرف اس طرح کے مقدمات سے قرآن مجید اور احادیث کی تعلیمات کی تکمیل نہیں ہوتی اور یہ ان کے مغائر ہونے کے علاوہ فطری انصاف کے تقاصوں کو بھی پورا نہیں کرتا۔ لہٰذا یہ کہنا مناسب ہوگا کہ مشرف کے معاملہ میں ملک کے آئین کو مکمل طور پر نظرانداز کیا گیا۔ دوسری طرف مشرف کے قریبی دوست اور مشرف کی پارٹی آل پاکستان مسلم لیگ کے سابق صدرنشین محمد امجد نے بتایا کہ مشرف بیماری کی وجہ سے ہر گزرتے دن کے ساتھ کمزور ہوتے جارہے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ وہ مقدمہ کا سامنا کرنے کے لئے پاکستان آنے کے موقف میں نہیں ہیں۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ایک بار پھر ضروری ہیکہ مشرف نے 1999ء میں ایک فوجی بغاوت کے ذریعہ سابق وزیراعظم نواز شریف کو معزول کردیا تھا لیکن آج صورتحال یہ ہیکہ نواز شریف لندن میں علاج کروارہے ہیں اور مشرف دوبئی میں ہیں۔ دونوں ہی قائدین اس وقت بیماریوں میں مبتلاء ہیں۔ مشرف پاکستان آنے کے موقف میں نہیں اور نواز شریف کو جیل سے طبی علاج کیلئے لندن روانہ کیا گیا ہے۔