متعدد افراد متاثر ، دودھ کے نمونے ضبط ، ضلع کلکٹر اور ایس پی کی پریس کانفرنس
حیدرآباد ۔ 23 ۔ فروری : ( سیاست نیوز ) : ریاست آندھرا پردیش کے مشرقی گوداوری ضلع میں ملاوٹی دودھ پینے کے بعد چار افراد کی موت ہوگئی اور کئی افراد بیمار پڑ گئے ۔ ضلع کلکٹر کیرتی چیکووی اور ایس پی نرسمہا کشور نے پریس کانفرنس کے ذریعے اس کی تصدیق کی ۔ تفصیلات کے مطابق مشرقی گوداوری ضلع میں ملاوٹی دودھ پینے کے بعد کئی افراد بیمار پڑ گئے ۔ جنہیں دواخانہ منتقل کیا گیا جہاں 85 سالہ خاتون کی موت ہوگئی تھی جس کے چند گھنٹوں بعد مزید تین افراد کی موت ہوگئی ۔ اور متعدد افراد کو بیمار ہونے پر چار مختلف دواخانوں میں شریک کیا گیا ۔ مریضوں کے نمونے حاصل کرنے کے بعد انہیں ٹسٹ کے لیے روانہ کیا گیا ۔ ابتدائی طور پر پتہ چلا کہ ان کے جسم میں پیشاب کی مکمل غیر موجودگی (انوریا ) کی علامت پائی گئی ۔ ڈی ایم ایچ او کے وینکٹیشور راؤ نے بتایا کہ ابتدائی نتائج میں پتہ چل رہا ہے کہ ان تمام مریضوں کو گردوں کی ناکامی کا اشارہ مل رہا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ تمام مریضوں نے ایک ہی دودھ کے تاجر کے پاس سے دودھ حاصل کیا تھا اور اسے استعمال کیا جس کے بعد انہیں مسائل پیدا ہوئے ۔ پولیس نے دودھ کے تاجر کو مزید پوچھ گچھ کے لیے تحویل میں لے لیا ۔ ضلع کلکٹر نے جامع تحقیقات کرانے کا حکم دیا اور رپیڈ ریسپانس ٹیم تشکیل دی گئی ۔ مریضوں کے نمونے حاصل کیے گئے اور انہیں لیبارٹری اور فارنسک کو تجربہ کے لیے روانہ کیا گیا ۔ پولیس نے دودھ کو بھی اپنے قبضے میں لیتے ہوئے اسے جانچ کے لیے روانہ کیا ۔ رپورٹ آنے کے بعد ہی پتہ چلے گا کہ دودھ ملاوٹی تھا یا نہیں ۔ عہدیداروں نے مقامی افراد کو مشورہ دیا کہ وہ دودھ کی خریداری سے قبل احتیاط کریں اور پوری جانکاری ملنے کے بعد ہی دودھ خریدے ۔ آندھرا پردیش چیف منسٹر این چندرا بابو نائیڈو نے اس مسئلہ پر سنجیدگی اختیار کرتے ہوئے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ مریضوں کو بہتر سے بہتر علاج کیا جائے اور اس کیس کی مکمل جانچ کی جائے ۔ عوام کی صحت کے ساتھ کھیلنے پر کسی کو بھی نہیں بخشا جائے ۔۔ ش