لندن ۔ مشرقی یوکرین میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے روس کے حملے اور یورپ میں جنگ کے خدشات کو اس وقت مزید بڑھا دیا جب ایک انسانی امدادی قافلہ گولہ باری کا نشانہ بنا جبکہ روس نواز باغیوں نے تنازعات کے علاقہ سے شہریوں کو نکالنا شروع کردیا۔ اے پی کی رپورٹ کے مطابق کریملن نے اپنے فوجی دستوں کی تیاری کے لیے بڑے پیمانے پر جوہری مشقوں کا اعلان کیا تھا اور صدر ولادیمیر پیوٹن نے روس کے قومی مفادات کے تحفظ کا عہد کیا جسے وہ مغربی خطرات کی گھیراؤ کے طور پر دیکھتے ہیں۔ البتہ فوری طور پر تشویش مشرقی یوکرین پر مرکوز رہی کیونکہ لوہانسک اور ڈونیٹسک کے علاقوں میں ماسکو نواز باغیوں نے اعلان کیا کہ انہوں نے شہریوں کو روس منتقل کرنا شروع کر دیا ہے۔