بیروت: عالمی سطح پر اسرائیل اور ایران کی جنگ شروع ہونے سے روکنے کیلئے سفارتی دباؤ کیلئے کوششیں تیز ہو گئی ہیں۔ خدشہ ہے کہ چہارشنبہ کو تہران پر حملے میں حماس سربراہ کے قتل کا ایران اسرائیل کو جواب دینے کیلئے کچھ کرے گا۔ جیسا کہ سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے کہا تھا کہ اسرائیل کو جواب دینا فرض ہے۔ تو اس سے علاقے میں کشیدگی بڑھ جائے گی۔ایرانی حمایت یافتہ لبنان کی حزب اللہ سے بھی اپنے ایک سینئر کمانڈر کے بیروت میں قتل کے بعد خدشہ ہے کہ وہ بھی اسرائیل کو جواب دے گی۔ اس تناظر میں عالمی سطح پر سفارتی کوششیں شروع ہو گئی ہیں۔متعدد حکومتوں کے نمائندے اپنے شہریوں کو لبنان چھوڑنے کا کہہ چکے ہیں۔ اسرائیلی وزیر اعظم نے بھی کہا ہے کہ ان کا ملک ایران اور اس کے اتحادیوں کے خلاف قوت سے کھڑے ہیں اور ہر میدان میں مقابلے کیلئے تیار ہیں۔ جس طرح کہ اسرائیل حماس کے خلاف تقریبا 11 ماہ سے کھڑا ہے۔ واضح رہے حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ اسماعیل ھنیہ کا بدھ کے روز ایران میں قتل اسرائیل کی ایک بڑی کامیابی ہے۔ تاہم اسرائیل نے اس کی براہ راست ذمہ داری لینے سے گریز کیا ہے۔حماس سربراہ ھنیہ اور حزب اللہ کے کمانڈر فواد شکر کی ہلاکتوں کے بعد امریکہ نے علاقے میں اپنی فوجی تعیناتی اور اثاثوں کے بھجوانے کا اعلان کیا۔ نیز اسرائیل کیلئے کسی بھی طرف سے خطرے کی صورت میں اس کے تحفظ اور دفاع کیلئے ساتھ رہنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔