تہران نے ہمیشہ تحمل کامظاہرہ کیا ہے لیکن جواب دینے کا حق حاصل‘ اسرائیل پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ
نیویارک :مشر ق وسطی کی دھماکو صورتحال پر سلامتی کونسل کا اجلاس منعقد کیا گیا۔ اجلاس میں چین، روس اور الجزائر نے حماس سربراہ اسماعیل ہنیہ کے قتل کی شدیدالفاظ میں مذمت کردی۔ایران کی درخواست پر بلائے گئے سلامتی کونسل کے اجلاس میں مشرق وسطی میں بڑھتی ہوئی کشیدگی روکنے کیلئے سفارتی کوششیں تیز کرنے پر زور دیا گیا۔اجلاس میں ایرانی سفیر نے کہا کہ تہران نے ہمیشہ تحمل کامظاہرہ کیا ہے لیکن جواب دینے کا حق رکھتے ہیں۔ایرانی سفیر نے اجلاس سے مطالبہ کیا کہ سلامتی کونسل اسرائیلی حملے کی مذمت کرے اور اسرائیل پر پابندیاں عائد کرے۔نائب اسرائیلی سفیرجوناتھن ملر نے ایرانی سفیر کے جواب میں کہا کہ سلامتی کونسل علاقائی دہشت گردی کی حمایت پر ایران پر پابندیاں لگائے۔اسرائیلی سفیر نے کہا کہ اسرائیل اپنا دفاع کرے گا اور نقصان پہنچانے والوں کو طاقت کے ساتھ جواب دیں گے۔سلامتی کونسل کے اجلاس میں چین کے سفیر فو کونگ نے کہا کہ غزہ جنگ بندی میں ناکامی خطے میں کشیدگی کا سبب ہے۔برطانوی سفیر باربرا وڈ ورڈز نے کہا کہ اسرائیل اور فلسطین کوامن کیلئے دوبارہ کوششیں کرنی چاہییں۔سلامتی کونسل کے اجلاس میں امریکی نائب سفیر رابرٹ وڈ نے کہا کہ اثر رسوخ والے ملک کشیدگی میں کمی کیلئے ایران پر دباؤ ڈالیں۔نائب جاپانی سفیر شینو مٹسوکو کا کہنا تھا کہ مشرق وسطی جنگ کے دہانے پر پہنچ گیا ہے۔واضح رہے کہ حماس رہنما اسماعیل ہنیہ کی شہادت کے بعد ایران کی درخواست پر سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بْلایا گیا۔یہاں یہ تذکرہ بیجا نہ ہوگا کہ حماس کے قائد اسماعیل ہنیہ کا تہران میں اس وقت قتل کردیا گیا جب وہ صدر ایران کی حلف برداری تقریب میں شرکت کیلئے تہران میں موجود تھے ۔ اسرائیل کے اس حملہ کی دنیا بھر سے شدید مذمت کی جارہی ہے ۔