پہلے مریض کی30 جنوری کوتشخیص ہوئی، متاثرین کی تعداد اب 1 لاکھ سے متجاوز
لاک ڈاؤن 4.0 میں یکایک کئی شعبے کھول دینے کا کیا جواز ؟
حکومتیں بہ یک وقت صحت عامہ اور معیشت کو نقصان سے پریشان
حیدرآباد۔20مئی (سیاست نیوز) ملک میں کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے اور آئندہ چند یوم کے دوران مریضوں میں تیزی سے اضافہ ہونے کے خدشات موجود ہیں لیکن اس کے باوجود لاک ڈاؤن میں دی جانے والی نرمی صورتحال پر قابو پانے کی حکمت عملی نہیں بلکہ صورتحال کو ابتر بنانے کی احمقانہ منصوبہ بندی نظر آرہی ہے ۔ ہندستان میںکورونا وائرس کا پہلا مصدقہ مریض 30جنوری کو پایا گیا تھااور اس کے بعد سے چوکسی اختیار کرنے کے اقدامات کئے جا رہے تھے لیکن جس طرح سے چوکسی اختیار کی جانی چاہئے تھی اس طرح سے چوکسی اختیار نہیں کی گئی بلکہ ان ابتدائی معاملات کو نظر انداز کیا جاتا رہا اوربتدریج کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ 15اپریل کو ہندستان میں 10815 کورونا وائرس کے مصدقہ مریض موجود تھے جبکہ 22اپریل کو یہ تعداد 20471تک پہنچ گئی اور 28اپریل کو کورونا وائرس کے مصدقہ مریضو ںکی تعداد 29974ہوگئی ۔ 3مئی کو ملک میں کورونا وائر س کے متاثرین کی جملہ تعداد 40263تک پہنچ گئی تھی جبکہ اموات1306 تھیں۔ 15اپریل کو جب ملک بھر میں کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد 10ہزار 815 تھی اس وقت اموات 353تھیں۔ 6مئی کو ملک میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 49ہزار391تک پہنچ گئی اور اموات 1694ہوگئی۔ 9مئی کو کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد 59ہزار662 تھی اور اموات کی تعداد 1981 تک پہنچ گئی تھی۔ 12مئی سے کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ میں تیزی ریکارڈ کی جانے لگی اور 12مئی کو متاثرین کی تعداد 70ہزار 756تک پہنچ گئی اور 15مئی کو 81ہزار 970کورونا متاثرین ہوگئے اور 17مئی کو یہ تعداد 90ہزار 927 تک پہنچ گئی اور 19مئی کو ہندوستا ن میں کورونا وائر س متاثرین کی تعداد 1لاکھ سے متجاوز ہوگئی اور مصدقہ مریضوں کی تعداد 1لاکھ ایک ہزار 139 ریکارڈ کی گئی اور اموات 3ہزار 163 تک پہنچ گئی لیکن اس کے باوجود ملک میں لاک ڈاؤن میں نرمی کا فیصلہ کیا گیا اور تجارتی اداروں کو کھولنے کی اجازت دی گئی جس کے نتیجہ میں عوام کی بڑی تعداد گھرو ں سے نکل پڑی۔ ماہرین کا کہناہے کہ گذشتہ ایک ہفتے میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں 28 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے اور مستقبل قریب میں متاثرین کی تعداد میں اضافہ پر روک کے متعلق کوئی بھی کچھ بھی کہنے سے قاصر ہے۔ ماہر اطباء کا کہناہے کہ اب جبکہ لاک ڈاؤن میں راحت فراہم کی گئی ہے ایسی صورت میں احتیاطی اقدامات میں مزید سختی لانے کی ضرورت ہے کیونکہ کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ تیز ہوتا جا رہاہے اور آئندہ دنوں میں بھی مصدقہ مریضوں کی تعداد میں کافی اضافہ کا خدشہ ہے اور کہا جارہا ہے کہ لاک ڈاؤن میں مزید توسیع کے ذریعہ مریضوں کی تعداد پر قابو پانے کے بجائے معاشی سرگرمیوں کو شروع کرتے ہوئے معیشت اور صحت عامہ دونوں کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے لیکن اس میں کامیابی کے امکانات موہوم ہیں ۔ کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں ہونے والے اضافہ کے سلسلہ میں ماہرین کا کہناہے کہ اگر اس اضافہ کو روکنے کے اقدامات کئے جاتے ہیں اور لاک ڈاؤن کو سخت کیا جاتا ہے تو ایسی صورت میں معیشت کو نقصان پہنچ رہا ہے اور لاک ڈاؤن میں نرمی دیئے جانے کے منفی اثرات صحت عامہ پر مرتب ہونے لگے ہیں۔ ملک بھر میں کوروناو ائرس کے مریضو ںکی نشاندہی کیلئے ان کے معائنوں کے پیمانہ پر بھی کئی سوال اٹھائے جارہے ہیں اور بعض ریاستوں میں معائینوں کی تعداد پر بھی تشویش کا اظہار کیا جا رہاہے۔