ممبئی : ہندی فلمی دنیا میں جاں نثار اختر کو ایک ایسے نغمہ نگار کے طور پر یاد کیا جاتا ہے جنہوں نے اپنے نغموں کو عام زندگی کے ساتھ منسلک کرکے ایک نئے دور کا آغاز کیا۔جاں نثار اختر 1914 میں مدھیہ پردیش کے گوالیار شہر میں پیدا ہوئے ان کے والد مضطر خیرآبادی بھی ایک مشہور شاعر تھے ۔ ان کا بچپن سے شاعری سے گہرا تعلق تھا۔انہوں نے زندگی کے اتار چڑھاؤ کو بہت قریب سے دیکھا تھا اسی لئے ان کی شاعری میں زندگی کے فسانے کو بڑی شدت سے محسوس کیا جا سکتا ہے ۔ سال 1945 ء اختر کے لئے خوشیوں کی سوغات لے کر آیا اس سال ان کا بیٹا پیدا ہوا تھا جس کا نام انہوں نے ‘جادو’ رکھا جو بعد میں ‘‘جاوید اختر’’ کے نام سے فلم انڈسٹری میں مشہور ہوئے ۔ممبئی پہنچنے پر انہیں بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ انہوں نے سب سے پہلے فلم ‘شکایت’ کے لئے نغمہ لکھا لیکن فلم کی ناکامی کے بعدانہیں اپنا فلمی کیریئر ڈوبتا نظر آیا ۔ سال 1952 میں انہیں گہرا صدمہ پہنچا جب ان کی بیگم کا انتقال ہو گیا۔تقریباً چار سال تک ممبئی میں جدوجہد کرنے کے بعد 1953 میں فلم ‘نغمہ’ میں گلوکارہ شمشاد بیگم کی آواز میں ‘‘بڑی مشکل سے دل کی بیقراری کو قرار آیا’’ کی کامیابی سے وہ فلم انڈسٹری میں خود کو ثابت کرنے میں کامیاب ہو گئے ۔ جاں نثار اختر 19 اگست 1976 کو اس دنیا کو الوداع کہہ گئے ۔