قاہرہ : سیاسی، عرب اور بین الاقوامی حلقے ابھی بھی قاہرہ میں ہونے والی عرب سربراہی کانفرنس کے اثرات کو دیکھ رہے ہیں۔ اس کانفرنس میں 23 قرار دادیں شامل ہیں۔ یہ تمام قراردادیں فلسطینی کاز کے حق میں ہیں۔ اس صورت حال پر نظر رکھنے والوں کے ذہنوں میں ایک سوال پیدا ہو رہا ہے کہ حماس کو غیر مسلح کرنے کے حوالے سے کیا کیا جائے گا کیونکہ یہ ایک اہم نکتہ ہے۔مصری کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کے ماہر میجر جنرل اسامہ محمود کبیر نے ’’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ سے گفتگو میں اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ تحریک حماس کے رہنما سامی ابو زہری نے اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے وضاحت کردی ہے کہ حماس اپنے ہتھیاروں سے جڑی ہوئی ہے اور یہ اس کے لیے ایک ریڈ لائن ہیں۔ اسی ریڈ لائن کو اسرائیل نے جنگ بندی ختم کرنے کے بہانے کے طور پر استعمال کیا اور اپنے ان نئے منصوبوں سے آگاہ کیا جو لا گو ہونے کے لیے تیار ہیں۔ خاص طورپر اسرائیلی فوج کے نئے چیف آف سٹاف ایال زامیرجو اپنے پیش رو ہرزائی ہیلیوی کی جگہ اپنا عہدہ سنبھالنے جا رہے ہیں، کی موجودگی کے تناظر میں یہ نئے منصوبے اہم ہیں۔مصری تجزیہ نے مزید کہا کہ نئے چیف آف سٹاف کے بارے میں دستیاب معلومات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ پرتشدد اور جارحانہ رجحانات کے حامل شخص ہیں۔ وہ کسی بھی تصفیے کی پالیسیوں، جنگ بندی کے مذاکرات یا بین الاقوامی ثالثی سے ہٹ کر اپنے جنگی کام کی تکنیک پر عمل کرنے کی کھلے عام خواہش کا اظہار کر رہے ہیں۔