مصری پارلیمان نے لیبیا میں فوجی مداخلت کی منظوری دیدی

,

   

Ferty9 Clinic

قاہرہ۔ مصری صدر نے لیبیا میں فوجی مداخلت کی پہلے ہی دھمکی دی تھی اور چونکہ ترکی اور مصر، لیبیا میں دو متحارب گروہوں کے حامی ہیں، اس اقدام سے دونوں میں ٹکراؤ کے مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔ مصر کے صدر عبد الفتح السیسی نے چند روز قبل ہی لیبیا میں ترکی کے حمایت یافتہ فورسز کے خلاف فوجی مداخلت کی دھمکی دی تھی اور پیر 20 جولائی کو مصری پارلیمان نے بیرون ملک فوج کی تعیناتی کو منظور ی دے دی۔ مصری ایوان نمائندگان میں صدر السیسی کے حامیوں کی اکثریت ہے جس نے بند کمرے میں ہونے والی ایک میٹنگ کے بعد کہا ہے کہ ملک کی مغربی سرحد پر ’’جرائم پیشہ ملیشیا اور بیرونی دہشت گردوں ‘‘سے نمٹنے کے لیے فوج کو تعینات کیا جا سکتا ہے۔ بیان میں لیبیا کا نام نہیں لیا گیا ہے تاہم کہا گیا کہ فوج مصر کی قومی سلامتی کا دفاع کرے گی۔لیبیا میں ایک طرح سے خانہ جنگی کا ماحول ہے اور اس بالواسطہ جنگ میں ترکی ایک دھڑے کی حمایت کرتا ہے تو مصر دوسرے گروہ کی اور غالب امکان اس بات کا ہے کہ السیسی کے اس قدم سے ترکی اور مصر کے درمیان براہ راست ٹکراؤ کی صورت پیدا ہوگی۔ مصر کی مغربی ریگستانی سرحد لیبیا سے ملتی ہے اور صدر السیسی نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ اگر مصر کو قومی سلامتی کو خطرہ لاحق ہوا تو وہ خاموش نہیں بیٹھیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ دفاعی نکتہ نظر سے اہمیت کا حامل ساحلی شہر سیرت سرخ لائن ہے اور اگر لیبیا کے حکومتی فورسز کی جانب سے اس شہر پر حملہ ہوا تو پھر مصر فوجی مداخلت کرے گا۔لیبیا میں دو متوازی حکومتیں قائم ہیں۔ بڑے قومی اتحاد (جی این او) کی حکومت کو بین الاقوامی حمایت حاصل ہے جبکہ خلیفہ حفتر کی قیادت میں لیبیا کی نیشنل آرمی (ایل این اے) کو عالمی سطح پر تسلیم نہیں کیا جاتا تاہم اسے روس، متحدہ عرب امارات اور مصر کی حمایت حاصل ہے۔