قاہرہ۔ 25 اکتوبر (یو این آئی) مصر میں جلاوطن کیے گئے فلسطینی قیدیوں کو آباد کرنے کیلئے جن ممالک پر غور کیا جا رہا ہے ، ان میں قطر، ترکی اور ملائیشیا کے علاوہ پاکستان بھی شامل ہے ۔ ڈان نیوز میں شائع غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی ثالثی سے ہونے والے جنگ بندی معاہدہ کے بعد، جو 10 اکتوبر سے نافذ العمل ہے ، حماس نے تقریباً 2 ہزار فلسطینی قیدیوں کے بدلے تمام 20 زندہ اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کر دیا تھا۔ ان میں سے زیادہ تر قیدی غزہ اور مغربی کنارے واپس چلے گئے ، تاہم 154 فلسطینی سابق قیدیوں کو جلاوطن کرکے بسوں کے ذریعہ مصر بھیج دیا گیا، جہاں حکام نے انہیں ایک فائیو اسٹار ہوٹل میں رکھا ہوا ہے جہاں سے وہ اجازت کے بغیر باہر نہیں نکل سکتے ۔ یاد رہے کہ مصر کے اسرائیل کے ساتھ باضابطہ سفارتی تعلقات ہیں اور اس نے قیدیوں کے تبادلے میں کلیدی ثالثی کردار ادا کیا جب کہ جنگ بندی کے پچھلے معاہدوں کے دوران بھی ہزاروں فلسطینی قیدیوں کو اسی طرح کے تبادلوں کے ذریعے رہا کیا گیا تھا۔ مصر نے سب سے پہلے ان قیدیوں میں سے 150 کو جنوری میں قبول کیا تھا اور 8 ماہ سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود ان میں سے زیادہ تر اب بھی اسی ہوٹل میں مقید ہیں، ان کے مستقبل کے بارے میں کوئی واضح فیصلہ نہیں کیا گیا۔ قاہرہ میں موجود یہ تمام افراد اسرائیلی فوجی عدالتوں سے قتل اور مزاحمتی تنظیموں کی رکنیت رکھنے کے الزامات میں عمر قید کی سزا پاچکے ہیں، تاہم، اقوام متحدہ کے ماہرین متعدد مواقع پر ان فیصلوں کو غیر منصفانہ قرار دے چکے ہیں، جنہیں مقبوضہ علاقوں میں فلسطینیوں کے خلاف دہائیوں سے جاری غیر عادلانہ مقدمات کا حصہ سمجھا جاتا ہے ۔ بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی اسرائیلی عدالتوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ عدالتیں دراصل قبضے کے نظام کا حصہ ہیں اور فلسطینیوں کو منصفانہ ٹرائل کے بنیادی حقوق فراہم نہیں کرتیں۔