بیروت : اسرائیلی مسگاو انسٹی ٹیوٹ برائے قومی سلامتی اور اسٹریٹجک ریسرچ نے غزہ کی پٹی کی پوری آبادی کو مصر کے جزیرہ نما سینا میں منتقل کرنے کے متوقع اسرائیلی منصوبے کا پردہ آشکار کیا ہے۔انسٹی ٹیوٹ نے جو منصوبہ پلیٹ فارم “ایکس’’ پر شائع کیا ہے وہ ’’ غزہ کے تمام باشندوں کے لیے مصر میں دوبارہ آباد کاری اور بحالی کے حتمی منصوبہ کا اقتصادی پہلو‘‘ کے عنوان سے ہے۔اسٹریٹجک تجزیہ کار امیر وائٹ مین کی طرف سے تیار کی گئی اس تحقیق میں کئی اہم نکات شامل تھے جن پر اسرائیل غزہ کے باشندوں کو بے گھر کرنے کیلئے مصر کو دی گئی مراعات پر انحصار کرتا ہے۔منصوبے کے مطابق مصری حکومت کے ساتھ مل کر غزہ کی پٹی کو مکمل طور پر خالی کرانے کا ایک منفرد اور نادر موقع ہے کیونکہ وہاں پوری عرب آبادی کی آبادکاری اور انسانی بنیادوں پر بحالی کے لیے فوری، حقیقت پسندانہ اور پائیدار منصوبے کی ضرورت ہے۔’’السادس من اکتوبر‘‘ اور ’’ العاشر من رمضان‘‘ اسرائیلی انسٹی ٹیوٹ کی تحقیق میں بتایا گیا کہ 2017 میں رپورٹس نے اشارہ کیا کہ مصر میں تقریباً 10 ملین مکانات خالی ہیں جن میں سے تقریباً نصف تعمیر اور باقی آدھے زیر تعمیر تھے۔ مثال کے طور پر قاہرہ سے منسلک دو بڑے شہروں “السادس من اکتوبر‘‘ اور ’’ العاشر من رمضان‘‘ میں حکومت اور نجی شعبے کی ملکیت میں تعمیر شدہ اور خالی اپارٹمنٹس کی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔ ہر عمارت کا ایک رہائشی یونٹ 6 افراد کے رہنے کے لیے کافی ہے۔ اس طرح یہ اپارٹمنٹس دس لاکھ لوگوں کے لیے کافی ہو سکتے ہیں۔