نئی دہلی : /8 ستمبر (ایس ایم بلال) وزیراعظم نریندر مودی اور صدر امریکہ جوبائیڈن نے جمعہ کو یہاں باہمی اجلاس منعقد کیا ۔ مودی اور بائیڈن نے ہندوستان اور امریکہ کے درمیان قریبی روابط کی ازسرنو توثیق کی ۔ دونوں قائدین نے کئی موضوعات پر بات کی اور متعدد شعبوں میں دونوں ملکوں کے باہمی تعاون کو بڑھانے پر زور دیا ۔ مودی اور بائیڈن نے اتفاق کیا کہ
مصنوعی ذہانت (اے آئی) ، سائنس ، دفاع ایسے کلیدی شعبے ہیں جن میں دونوں ملکوں کیلئے باہم مل کر کام کرنے اور ایک دوسرے کو فائدہ پہنچانے کی کافی گنجائش موجود ہے۔ دونوں قائدین نے G20 کے تیئں اپنے عزم کو دہرایا اور اعتماد ظاہر کیا کہ کل شروع ہونے والی سمٹ مشترک مقاصد کو آگے بڑھانے میں معاون ثابت ہوگی ۔ دونوں نے انڈیا ۔ یو ایس میجر ڈیفنس پارٹنر شپ کو مزید گہرا کرنے اور مختلف پہلوؤں کے اعتبار سے پھیلانے کے اپنے عزم کا اظہار کیا جس کیلئے دونوں ممالک خلا اور آرٹیفیشل انٹلیجنس جیسے نئے اور ابھرنے شعبوں میں زیادہ سے زیادہ تعاون کو ترجیح دیں گے ۔ وزیراعظم مودی اور صدر بائیڈن نے اتفاق کیا کہ ٹکنالوجی کا نئی دنیا میں بڑھتا ہوا رول سب کیلئے فائدہ مند ہونا چاہئیے ۔ اس کیلئے تمام تر اقدامات کرنے ہوں گے ۔ دونوں قائدین نے کواڈ کی اہمیت کو تسلیم کیا اور کہا کہ یہ آزاد ، مشمولاتی اور مزاحمت سے بھرپور انڈو۔پیسیفک خطہ کی حمایت کرتا ہے۔ مودی اور بائیڈن نے تمام متعلقہ اداروں کے درمیان مشاورت کو بڑھانے پر زور دیا اور کہا کہ نیوکلیر انرجی میں ہند ۔ امریکہ اشتراک کو وسعت دی جائے گی ۔ دونوں قائدین کی تقریباً ایک گھنٹہ طویل ملاقات میں معاشی اور عوام سے عوام رابطوں جیسے موضوعات پر بھی غور و خوص کیا گیا ۔ دونوں نے کہا کہ ہندوستان اور امریکہ کو عالمی بھلائی میں اپنے رول کو زیادہ سے زیادہ بڑھانا چاہئیے ۔ قبل ازیں بائیڈن G20 چوٹی اجلاس میں شرکت کیلئے آج جمعہ کو دہلی پہنچے ۔ ان کا استقبال مرکزی وزیر وی کے سنگھ نے کیا۔ ہفتہ کو G20 اجلاس کا آغاز ہوگا۔ بھارت منڈپم میں سمٹ سے قبل پریس کانفرنس میں ایس امیتابھ کانت نے بتایا کہ نئی دہلی کے قائدین نے G20 کا ڈکلریشن لگ بھگ تیار کرلیا ہے جسے گروپ کے قائدین کی منظوری حاصل کرنے کی پوری کوشش کی جائے گی ۔ متوقع اعلامیہ میں روس ۔ یوکرین جنگ اور آب وہوا سے متعلق مسائل جیسے مشکل موضوعات کا خصوصیت سے تذکرہ کرنے سے گریز کیا جائے گا ۔