مصنوعی ذہانت سے دفاع کے بشمول بیشتر شعبوں میں انقلابی تبدیلیاں یقینی
حیدرآباد : مصنوعی ذہانت کا آج ساری دنیا میں چرچہ ہے اور اس شعبہ میں روبوٹس کا اہم کردار ہوتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مصنوعی ذہانت کو بہت زیادہ فروغ دیا جائے تو یہ انسانی ذہانت سے زیادہ طاقتور اور انسانی تہذیب کے لئے بہت بڑا خطرہ پیدا ہوسکتا ہے۔ بعض کا یہ بھی دعویٰ ہیکہ یہ مکمل طور پر انسانوں کا بدل ہوسکتی ہے۔ کچھ عرصہ قبل آکسفورڈ یونیورسٹی کے سائنسدانوں کے بنائے گئے مصنوعی ذہانت کے نظام میں انسانی ہونٹوں کی حرکت کو انسانوں سے زیادہ بہتر انداز میں پڑھا۔ آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ کئی ایسے گیمز ہیں جس میں مصنوعی ذہانت کے مقابلہ انسان کو شکست ہو گئی یعنی مصنوعی ذہانت کے حامل روبوٹس کا پلڑلہ بھاری رہا۔ واضح رہے کہ کمپیوٹر سائنس کے شعبہ میں مشین لرننگ تکنیکس کافی اہمیت رکھتی ہیں جس کا مقصد مصنوعی ذہانت کا حصول ہوتا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ڈیپ لرننگ اور مشین لرننگ میں کیا فرق ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ روایتی مشین لرننگ میں ڈیٹا انفرادی خصوصیات میں بکھر جاتا ہے اور دستکاری کی ان خصوصیات کو ماڈل میں جمع کردیا جاتا ہے اور اس کے ساتھ ہی نتیجہ کی شکل میں ہمیں پیش قیاسی حاصل ہوتی ہے۔ تاہم دستکاری کے خصوصیات ایک وقت طلب عمل ہے جس میں بہت زیادہ اعداد و شمار کی معلومات شامل ہوتی ہیں ساتھ ہی ڈیٹا سائنس میں مہارت بھی درکار ہوتی ہے۔ ڈیپ لرننگ اور ہمہ پرتی مصنوعی نیورل نیٹ ورکس، فیوچر سلیکشن یعنی مستقبل کا انتخاب اب خود ماڈل سے کیا جاسکتا ہے لیکن اس کے لئے آپ کو خام ڈیٹا کے بارے میں اعداد و شمار و دیگر معلومات یا مواد داخل کرنا پڑتا ہے۔ مثال کے طور پر تصاویر، ویڈیو آڈیو وغیرہ۔ ہمہ پرتی آرکیٹکچر ماڈل کو اس بات کا پتہ چلانے میں مدد کرتا ہے کہ سب سے زیادہ کردار ادا کرنے والی خصوصیات کونسی ہیں اور کامیاب پیش قیاسی کرنے کے لئے انہیں کیسے استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ کام بنا کسی انسانی مدد کے انجام دیا جاتا ہے۔ نتیجہ میں آپ جو پراجکٹ کررہے ہیں وہ طویل وقت لینے کی بجائے بہت ہی مختصر وقت میں پائے تکمیل کو پہنچتا ہے۔ ساتھ ہی ابتدائی مراحل میں انسانی مداخلت کو بھی کم کردیتا ہے۔ جہاں تک ڈیپ لرننگ ماڈلس کی ضروریات کا سوال ہے ان میں بہت زیادہ ڈیٹا درکار ہوتا ہے تاکہ تربیت فراہم کی جاسکے، اس کے برعکس روایتی مشن لرننگ ماڈلس کو زیادہ ڈیٹا یا معلومات درکار نہیں ہوتے۔ مثال کے طور پر آپ حیدرآباد کی مثال لیجئے۔ حیدرآباد میں مکانات کی قیمتوں کو دیکھئے۔ آپ ایک ایسا ماڈل تخلیق کرنے کے لئے مشین لرننگ استعمال کرسکتے ہیں جو یہ پیش قیاسی کرنے کے قابل ہوتا ہے کہ اس شہر میں مختلف گھروں کی قیمتیں کیا ہیں؟ اور ان کا رقبہ یا حجم کیا ہے؟ ساتھ ہی اس ماڈل کے ذریعہ آپ کو مختلف مکانات میں موجود کمروں کی تعداد وغیرہ بھی بہ آسانی معلوم ہو جائے گی اور مشین لرننگ کا ماڈل اس سلسلہ میں درست پیش قیاسی کرے گا۔ بنیادی طور پر مشین لرننگ ڈیٹا سیٹس پر منحصر ہوتا ہے جو بہت زیادہ اہم تصور کیا جاتے ہیں۔ اس لئے اس شعبہ میں معلومات کی ضرورت ہوتی ہے۔ مشین لرننگ کے برعکس ڈیپ لرننگ اپنے طور پر نیورل نیٹ ورک استعمال کرکے ڈیٹا سے خصوصیات دریافت کرتا ہے۔ ڈیپ لرننگ ایسے شعبہ میں بھی داخل ہوگیا ہے جن کا ہم تصور نہیں کرسکتے۔ ڈیپ لرننگ سیکوریٹی اور نگرانی کے شعبہ میں اہم کردار ادا کررہا ہے۔ اس سے پہلے ہمارے یہاں ایسے کیمرے ہوا کرتے تھے جنہیں ہم اہم مقامات پر نصب کرتے اور ویڈیوز حاصل کرتے اور اکثر ایک سیکوریٹی عہدہ دار اسکرین پر نظر رکھتا اور کئی کیمروں سے حاصل ہونے والے مواد کی اسکیاننگ کا عمل انجام دیتا۔ یہ کیمرے اس وقت بہت زیادہ کام آتے جب کوئی حادثہ یا واقعہ پیش آتا۔ اب ایسا نہیں رہا بلکہ ہمیں ہر وقت کے بارے میں آگاہ و چوکنا رہنا ہوگا اور یہ دیکھنا ہوگا کہ ہمارے اطراف و اکناف کیا ہو رہا ہے۔ ان حالات میں اب ہمارے پاس انٹلی جنٹ کیمرے ہیں اور انہیں ڈیپ پروسسنگ الکوریتھم سے کنٹرول کیا جاتا ہے جس کا مقصد خفیہ معلومات اخذ کرنا ہے۔ یہ ایسے کام کرتے ہیں جیسا ہم نے اپنے ماضی میں سائی فائی (سائنس فکشن) فلموں میں دیکھا تھا اب یہ حقیقت ہے۔ کمپیوٹر سائنس نے خودکار ٹکنالوجی کو غیر ضروری واقعات اور کارروائیوں کی نشاندہی کے قابل بنا دیا ہے۔ خاص طور پر اہم صنعتوں، اسکولوں اور یونیورسٹیز میں اس طرح کے مسائل کے حل کے لئے کوالیان ٹکنالوجی کا استعمال کیا جارہا ہے۔ موبائیل :+919880465068