مصنوعی ذہانت سے ملازمین کو نقصان کے بجائے فائدہ ہو گا: اقوام متحدہ

,

   

بیشتر افراد کی ملازمتیں ختم نہیں ہوں گی، اے آئی کے پاس متن، تصاویر، انیمیشن اور 3D ماڈلز تیار کرنے کی صلاحیت

نیویارک : اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق مصنوعی ذہانت (اے آئی) مکمل کام انجام دینے کے بجائے صرف چند فرائض میں مدد کرسکتی ہے۔ تاہم کلرک کے طور پر کام کرنے والے افراد کو مشینوں کی خودکاری کا خطرہ بہر حال لاحق رہے گا۔ اقوام متحدہ کی تنظیم انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی جانب سے پیر کے روز جاری کی گئی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی وجہ سے غالباً بیشتر افراد کی ملازمتیں ختم نہیں ہوں گی بلکہ اسے بعض ذمہ داریوں کو خود کار بنانے میں مدد ملے گی۔ جنریٹیو اے آئی، متن، تصاویر، آوازیں، انیمیشن، تھری ڈی ماڈلز اور دیگر ڈیٹا تیار کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، جسے ممکنہ طور پر کچھ کاموں کو مکمل کرنے یا انہیں بہتر بنانے اور توسیع کرنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارے انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن (آئی ایل او) کی طرف سے جاری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آٹومویشن یا خودکاری کی وجہ سے زیادہ تر ملازمتیں اور صنعتیں جزوی طورپر متاثر ہوتی ہیں اور اس طرح ان کا مصنوعی ذہانت پر مکمل انحصار کے بجائے اضافی تعاون کا امکان زیادہ رہتا ہے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ ٹکنالوجی سے کام یا پیداوار میں اضافہ ہو جانے کا امکان ہے۔ آئی ایل او کے اندازے کے مطابق کم آمدنی والے ممالک میں 0.4 فیصد ملازمتوں کے مقابلہ میں زیادہ آمدنی والے ممالک میں 5.5 فیصد ملازمتیں ممکنہ طورپر تخلیقی مصنوعی ذہانت کا شکار ہیں۔ تحقیقاتی رپورٹ سے تاہم یہ پتہ چلا ہے کہ کلرک کا کام کرنے والوں کو جنریٹیو مصنوعی ذہانت سے متاثر ہونے کا سب سے زیادہ خطرہ ہے۔ آئی ایل او کے مطابق ممکنہ خودکاری کی وجہ سے کلرک کا کام کرنے والے تقریباً ایک چوتھائی افراد متاثر ہوجائیں گے۔ اس کا بالخصوص امیر ممالک میں رہنے والی خواتین پر سب سے زیادہ اثر پڑے گا۔ آئی ایل او نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ اسی لیے پالیسی سازوں کو ہماری اس تحقیقاتی رپورٹ کو پڑھ کر ایک طرف رکھ دینے کے بجائے، آنے والے دنوں میں ہم سب پر تکنیکی تبدیلوں کے پڑنے والے اثرات سے نمٹنے کی پالیسی تیار کرنے کے لیے استعمال کرنا چاہئے۔