مضافاتی علاقوں میں غیر مجاز تعمیرات کو حیڈرا نے منہدم کردیا

   

9 ہزار کروڑ روپئے مالیت کی اراضی کے تحفظ کے احکامات
حیدرآباد۔/20 اپریل، ( سیاست نیوز) سرکاری اراضیات کے تحفظ کی مساعی میں مصروف حیڈرا حکام نے دو علحدہ مقامات پر 9000 کروڑ مالیاتی اراضی کے تحفظ کے اقدامات کئے ہیں۔ حیڈرا حکام نے شیرلنگم پلی میونسپلٹی کے تحت حفیظ پیٹ، کونڈا پور اور مادھا پور میں 39.2 ایکر متنازعہ اراضی پر غیر مجاز تعمیرات کو منہدم کردیا۔ اس اراضی کی مالیت 4500 کروڑ بتائی جاتی ہے۔ مارکٹ میں فی ایکر کی قیمت 110 تا 120 کروڑ ہے۔ بعض خانگی تعمیری کمپنیوں نے اراضی پر قبضہ کیا تھا جن کا تعلق تلگودیشم کے رکن اسمبلی وی کرشنا پرساد سے بتایا جاتا ہے۔ حیڈرا حکام نے رائے درگم شیخ پیٹ منڈل میں جے آر سی کنونشن کے قریب 39 ایکر اراضی پر غیر مجاز تعمیرات کو منہدم کردیا۔ اراضی کی مالیت 4500 کروڑ بتائی جاتی ہے۔ اراضی سے متعلق تنازعہ ہائی کورٹ میں زیر دوران ہے باوجود اس کے ایک خانگی کمپنی نے بورڈ آویزاں کرتے ہوئے فروخت کا آغاز کیا تھا۔ کمشنر حیڈرا اے وی رنگناتھ کے مطابق ریکارڈ میں تحریف کرتے ہوئے اراضی کی ملکیت کو تبدیل کیا گیا اور متنازعہ اراضی کے سبب حیڈرا نے انہدامی کارروائی انجام دی۔ انہوں نے کہا کہ عدالتوں میں مقدمات کے باوجود کئی مقامات پر کمپاونڈ وال تعمیر کی گئی۔ سروے نمبر 79 واقع حفیظ پیٹ میں تعمیری کام تیزی سے جاری ہیں جبکہ ریوینیو ریکارڈ میں یہ سرکاری اراضی کے طور پر درج ہے۔ کئی خانگی تعمیری کمپنیوں نے شہر کے اطراف کے علاقوں میں اپنی سرگرمیوں کو تیز کردیا ہے۔ رئیل اسٹیٹ کی سرگرمیوں کی راہ میں حیڈرا اہم رکاوٹ بن چکا ہے۔ حیڈرا کے حکام نے رنگاریڈی ضلع کے ترکایمجال میونسپلٹی کے اینجا پور گاؤں میں رنگا پورم کالونی کے تحت غیر مجاز فینسنگ کو نکال دیا ہے۔ علاقہ میں بعض پلاٹس کو لے آؤٹ کے بغیر فروخت کیا جارہا تھا۔ مقامی افراد کی شکایت پر حیڈرا نے اس علاقہ پر توجہ مرکوز کی ہے۔1