مطالبات قبول نہ کرنے پر کسان قائدین بات چیت کیلئے تیار نہیں

,

   

کسانوں کے نمائندوں اور حکومت کے درمیان ہفتہ کو پانچویں مرحلے کی بات چیت بھی بے نتیجہ

نئی دہلی: نئے زرعی قوانین کے خلاف احتجاجوں پر جاری تعطل کو توڑنے کی کوشش میں حکومت نے آج احتجاجی کسانوں کے نمائندوں کو بتایا کہ ان کی تشویش کا جائزہ لیا جارہا ہے ، لیکن یونین قائدین اپنے مطالبات پر اٹل ہیں کہ قوانین منسوخ کئے جائیں اور انہوں نے بات چیت سے واک آؤٹ کردینے کی دھمکی دی تاہم حکومت کی جانب سے کسان قائدین کو بات چیت جاری رکھنے پر رضامند کرلیا گیا، جو دوپہر 2:30 بجے شروع ہوئی۔ یہ حکومت اور کسانوں کے نمائندوں کے درمیان بات چیت کا پانچواں راؤنڈ ہوا۔ ہزاروں کسان قومی دارالحکومت کے مختلف سرحدی مقامات پر احتجاج کررہے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ نئے قوانین کا مقصد منڈی سسٹم کو ختم کرنا اور اقل ترین امدادی قیمت پر حصولیابی کے نظام کو بھی موقوف کردینا ہے، تاکہ کارپوریٹ اداروں کو فوائد دیئے جاسکیں۔ شام میں چائے کے وقفہ کے بعد جب میٹنگ کا احیاء ہوا، کسان قائدین نے بات چیت سے دستبردار ہوجانے کی دھمکی دی۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت ستمبر میں نافذ کردہ تینوں قوانین کو منسوخ کرنے آمادہ نہیں ہے تو انہیں بھی بات چیت میں کوئی دلچسپی نہیں۔ کسان قائدین نے دوسرے دن بھی اپنی طرف سے لائی گئی غذا اور چائے استعمال کی۔ اگرچہ حکومت نے احتجاجی قائدین کو بات چیت جاری رکھنے پر آمادہ کرلیا ہے لیکن ذرائع نے کہا کہ وزراء کے تجویز کردہ مختلف مسائل پر کسان قائدین میں کچھ اختلاف رائے اُبھر آیا۔ ایک اور ذریعہ نے کہا کہ حکومت نے فصل کٹائی کے بعد کھیتوں میں باقی ماندہ ملبہ جلانے پر کسانوں کے خلاف درج مقدمات کو واپس لینے کی پیشکش کی نیز بعض کسان جہد کاروں کے خلاف درج کیس بھی ختم کردینے کی پیشکش کی۔ شام میں وزراء نے تین تا چار کسان قائدین کے چھوٹے گروپوں سے بات چیت شروع کی جبکہ وہاں جملہ 40 نمائندے موجود تھے۔ وگیان بھون میں منعقدہ میٹنگ کی شروعات میں ہی مرکزی وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر نے کسان یونینوں کے گروپ کو بتایا کہ حکومت دوستانہ ماحول میں بات چیت کرنے اور نئے زرعی قوانین کے بارے میں تمام تر مثبت آراء کا خیرمقدم کرنے کی پابند عہد ہے۔ میٹنگ میں دیگر وزراء بھی شروع ہوئے۔ اجلاس سے قبل امیت شاہ نے راج ناتھ سنگھ کے بشمول چند وزراء ے وزیراعظم نریندر مودی سے اس مسئلہ پر بات چیت کی۔ جمعہ کو کسان پہلے ہی اعلان کرچکے ہیں کہ 8 ڈسمبر کو ’’بھارت بند ‘‘ منائیں گے اور اپنے ایجی ٹیشن میں شدت پیدا کرنے کی دھمکی دی۔ انہوں نے اگر حکومت ان کے مطالبات قبول نہیں کرتی ہے تو قومی دارالحکومت کو جانے والی مزید سڑکوں پر راستہ روک دیا جائے گا۔