مظاہروں میں دواخانوں، یونیورسٹیز اور عوامی املاک کو نشانہ بنایا گیا

   

کراکس : وینزویلا کے صدر نکولس مادورو نے اطلاع دی ہے کہ مظاہروں کے نتیجے میں ہونے والے تشدد میں 2 فوجی ہلاک اور 120 سیکیورٹی گارڈز زخمی ہوئے۔دارالحکومت کراکس میں صدارتی محل میرافلوریس میں پریس سے بات کرتے ہوئے مادورو نے کہا کہ مظاہروں میں ہسپتالوں، یونیورسٹیوں اور عوامی گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا۔مادورو نے بتایا کہ ان واقعات میں 2 فوجیوں کی جانیں گئیں اور 120 سیکیورٹی گارڈز زخمی ہوئے،اس کا موجب بننے والوں کو ایک ایک کرکے پکڑا جائیگا۔مادورو، جنہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ قومی الیکشن کونسل پر سائبر حملے کے پیچھے امریکی ارب پتی ایلون مسک کا ہاتھ تھا ، ہم سیکیورٹی سسٹم کو مضبوط کریں گے۔مادورو نے پریس کے ارکان کو اسکرین پر مظاہرین کے پْرتشدد واقعات کو دکھاتے ہوئے کہا کہ”اس توڑ پھوڑ کی وضاحت پرامن مظاہروں سے نہیں کی جا سکتی۔ 20 سے زیادہ پرائمری اسکولوں، 34 ہائی ا سکولوں، یونیورسٹیوں، ہسپتالوں، سپر مارکیٹوں، 30 ایمبولینسوں اور تقریباً 200 پولیس گاڑیوں پر حملہ کیا گیا۔ کمانڈر ہیوگو شاویز کے مجسموں کو نقصان پہنچایا گیا، جن میں سے زیادہ تر وہ لوگ تھے جنہوں نے ووٹ تک نہیں ڈالا۔ انہوں نے ٹیکساس سے آکر دنگا فساد مچایا، ان میں منشیات کے عادی بھی ہیں۔”مادورو نے قومی الیکشن کونسل کی طرف سے اعلان کردہ انتخابی نتائج کا سب کی طرف سے احترام کرنے کا مطالبہ کیا اورکہا کہ ملکی آئین ہر شہری پر عائد ہوتا ہے۔