بیروت: حماس نے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں کیے گئے حالیہ مظاہروں میں اسرائیل مدد کرہا ہے۔ اس لیے اسرائیلی مقاصد کے لیے کام اور تعاون کرنے والوں کو سزا مل سکتی ہے۔ حماس کی طرف سے اس امر کا اعلان جمعرات کے روز کیا گیا ہے۔یاد رہے سینکڑوں افراد نے پچھلے دو دن میں غزہ میں مظاہرے کیے ہیں ان مظاہروں کے دوران جنگ بندی کے حق میں اور حماس کے خلاف نعرے بازی کی ہے۔ ایسا غزہ میں پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔اسرائیل نے جن مظاہروں کی غزہ میں تعریف کی ہے ان کے انعقاد کے لیے جمعرات کے بعد مزید کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔دوسری جانب مزاحمتی گروپوں نے ان مظاہروں کو مشتبہ تحریک قرار دیا۔ مزاحمتی رہنماؤں نے اسرائیلی تعریف و تحسین کی مستحق مانی گئی مشتبہ تحریک کو سزا کی دھمکی دی ہے۔ان مزاحمتی رہنماؤں کی طرف سے کہا گیا ہے وہ مزاحمتی تحریک اس بات کی پرواہ کیے بغیر جاری رکھیں گے کہ صہیونی قبضے کی مشین کام کر رہی ہے۔’لہذا ہم خبردار کرتے ہیں ان مظاہروں میں حصہ لینے والے لوگ ہمارے لوگوں کی خونریزی میں اسی طرح شریک ہیں جس طرح اس خونریزی کا اسرائیل ذمہ دار ہے۔مزاحمتی عہدیداروں نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا ہے ‘بلاشبہ لوگوں کو مظاہرہ کرنے کا حق ہے مگر ہم فلسطینیوں کے مسائل اور مصائب کے علاوہ فلسطین پر اسرائیلی قبضے کے جرم کو نظر انداز کر نے کا کسی کو حق نہیں ہے۔ اس لیے اس طرح کی آواز کو مستحکم کرنے والے لوگ جو قبضے کو مضبوط کر رہے ہیں انہیں ان کی کردار کے مطابق ہی ڈیل کیا جائے گا۔’غزہ میں مظاہرہ کرنے والے کچھ مظاہرین نے ‘روئٹرز’ کے ساتھ رابطہ کر کے کہا ہے کہ وہ جنگ سے تھک چکے ہیں۔ حد یہ ہے کہ اس جنگ کی وجہ سے بنیادی اشیائے ضروریہ سے محروم ہو چکے ہیں۔ مزید یہ کہ کھانے پینے کی اشیا تک اب ہمارے پاس نہیں ہیں۔غزہ میں احتجاج سے تعلق رکھنے والی حالیہ ویڈیوز کو جس طرح سے وائرل کیا گیا ہے۔