مظلوم فلسطینیوں اور غزہ کے مسلمانوں کی کامیابی کیلئے خصوصی دعائیں

   

عیدگاہ اجالے شاہ میں خواتین کی جانب سے قنوت نازلہ و افطار کا اہتمام
حیدرآباد۔19۔اکٹوبر(سیاست نیوز) فلسطین و غزہ کے مسلمانوں پر ہونے والے اسرائیلی مظالم کے خلاف عیدگاہ اجالے شاہؒ میں خواتین کی جانب سے قنوت نازلہ اور افطار کا اہتمام کیا گیا اور مظلوم فلسطینیوں اور غزہ کے مسلمانوں کی کامیابی و کامرانی کے لئے دعائیں کی گئیں۔ شہر حیدرآباد سے تعلق رکھنے والی خواتین آہن جو دنیا بھر میں کسی بھی مقام پرمسلمانوں پر مظالم ہوں تواپنے گھروں سے نکلتی ہیں ان خواتین نے آج ایک مرتبہ پھر سے عید گاہ اجالے شاہؒ میں اجتماعی قنوت نازلہ کا اہتمام کرتے ہوئے اسرائیل و امریکہ کی تباہی اور بربادی کے لئے بددعاء کی ۔اس موقع پر احتجاجی طالبات اور خواتین نے ذرائع کے ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ فلسطین اور الاقصیٰ سے مسلمانوں کا قلبی اور ایمانی رشتہ ہے اور وہ اس بات کو قطعی فراموش نہیں کرسکتے کہ روئے زمین کے اس خطہ پر مظالم کا سلسلہ جاری رہے اور ہم خاموش تماشائی بنے رہیں۔ احتجاجی خواتین و لڑکیوں نے کہا کہ عالم عرب کی خاموشی سے امت کا سر شرم سے جھک رہا ہے کیونکہ معصوم نہتے فلسطینی عوام پر اسرائیل جس انداز میں فضائی حملہ کر رہا ہے وہ انسانیت کو شرمسار کرنے کے لئے کافی ہے لیکن اس کے باوجود عرب دنیا اس مسئلہ پر محض لفاظی سے کام لے رہی ہے جبکہ عملی طور پر اگر عرب اتحاد اسرائیل اور امریکہ کو انتباہ دیتے ہوئے اس تباہی کو رکوانے کے لئے آگے آتے تو ایسی صورت میں معصوم بچوں کی دواخانوں میں اموات نہ ہوتی۔الاہلی بیاپٹسٹ ہاسپٹل غزہ پر اسرائیل کے فضائی حملہ کے علاوہ شہری آبادیوں پر کئے جانے والے حملوں پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے احتجاجیوں نے کہا کہ اسرائیل جنگی قوانین کی کھل کر مخالفت کر رہا ہے اور اس کے باوجود دنیا اسرائیل کی پشت پناہی میں مصروف ہے۔ احتجاج میں شامل خواتین اور لڑکیوں کے علاوہ معصوم بچوں نے دنیا بھر میں مسلمانوں کے حالات اور جن مقامات پر مسلمان حالت جنگ میں ہیں ان کی فتح و نصرت کے لئے دعائیں کی ۔ عید گاہ اجالے شاہؒ میں داخل ہونے کے راستوں پر اسرائیلی و امریکی پرچم بچھائے گئے تھے جبکہ عید گاہ کی دیواروں اور باب الداخلہ پر غزہ اور فلسطین کی ہولناک تصاویر کے ساتھ ساتھ عرب بادشاہوں کی ذلت آمیزتصاویر آویزاں کی گئی تھیں۔ عید گاہ میں خواتین سعید آباد کی جانب سے دی گئی احتجاج اور قنوت نازلہ کی اس دعوت پر دونوں شہروں حیدرآبادو سکندرآباد سے تعلق رکھنے والی ہزاروں خواتین جمع ہوگئی تھیں اور عید گاہ کے اطراف و اکناف میں پولیس کی جانب سے وسیع تر بندوبست کیا گیا تھا تاکہ سڑک پر کسی بھی طرح کے امکانی احتجاج کو روکا جاسکے۔ احتجاج کے دوران اسرائیل کی مدد کرنے اور اس کی حمایت کرنے والوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا گیا کہ وہ تاریخی حقائق سے واقف ہونے کے باوجود ظالم اسرائیلی حکومت کا ساتھ دے رہے ہیں۔ احتجاجیوں نے حکومت ہند سے مطالبہ کیا کہ وہ مظلوم فلسطینیوں کے ساتھ کھڑے رہنے کی اپنی روایات کو برقرا ررکھے اور کسی بھی طرح کی ایسی پالیسی کو اختیار نہ کرے جو ظالم کی حمایت کرتی ہو۔