معاشی انحطاط کا عام آدمی شکار ‘منتخب نمائندے محفوظ!

,

   

اہل سیاست کے قریب رہنے والوں پر مندی کا کوئی اثر نہیں ‘ 20 برسوں میں ارکان پارلیمنٹ کی دولت میں بے تحاشہ اضافہ
فل ٹائم سیاست میں مصروف رہنے والوں کی جائیدادوں میں اضافہ آخر کیسے ؟

محمد مبشر الدین خرم
حیدرآباد۔29ستمبر۔ملک میں بسنے والے 130 کروڑ سے زائد ہندستانی شہریوں کی نمائندگی کرنے والوں کی معیشت مستحکم ہے لیکن معیشت کے استحکام کے متعلق تفکرات ظاہر کرنے والے ان نمائندوں کی جانب سے شہریوں کی کمزور ہوتی معیشت کو بہتر بنانے کیلئے کوئی منصوبہ پیش نہیں کیا جا رہاہے اور نہ ہی انہیں اس بات کی فکر لاحق ہے بلکہ جی ڈی پی میں ریکارڈ کی جانے والی گراوٹ ‘ریزرو بینک آف انڈیا سے حاصل کی جانے والی 1.76لاکھ کروڑ کی رقم پر واویلا کرنے والوںکی بھی معیشت کا جائزہ لیا جائے تو ان کی معیشت کو کوئی فرق نہیں پڑا بلکہ حالیہ عرصہ میں منظر عام پر آنے والی ایک رپورٹ کے مطابق سال 2004 سے اب تک منتخبہ عوامی نمائندوں کی معیشت مستحکم ہی ہوئی ہے خواہ وہ رکن پارلیمنٹ ہوں یا رکن اسمبلی ہوں ان کی معیشت پر ملک کی کمزور معیشت کے کوئی منفی اثرات نہیں ہوئے بلکہ بعض ماہرین نے اس کی مختلف وجوہات پر بھی روشنی ڈالی ہیں۔ ملک کی معیشت کے متعلق تفکرات کا اظہار کرنے والے سیاستداں اپنی معیشت کو مستحکم رکھنے میں آخر کس طرح کامیاب ہوجاتے ہیں اور کون انہیں اتنی دولت دے جاتا ہے کہ ملک کے معاشی انحطاط کا اثر شہریوں پر تو پڑتا ہے اور وہ محسوس کرتے ہیں لیکن سیاستدانوں پر نہیں ہوتا۔ حالیہ عرصہ میں منظر عام پر آنے والی ایک رپورٹ کے مطابق ملک کے ارکان پارلیمان کی دولت میں گذشتہ 20 برس کے دوران بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے ۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملک کے ارکان پارلیمان کی دولت سال 2004 میں 144 ملین امریکی ڈالر تھی جبکہ اب یہ بڑھ کر 1.57بلین ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔سال 2015 کے دوران ملک کے تمام ارکان اسمبلی کی دولت کا جو حساب لگایا گیا تھا

اس کے مطابق یہ دولت 164.6ملین تھی جبکہ اب یہ دولت 2.13بلین تک پہنچ چکی ہے۔ عام طور پر ملک کے بیشتر سیاستدانو ںکا کوئی کاروبار نہیں ہے بلکہ وہ فل ٹائم سیاست میں مصروف رہتے ہیں اس اعتبار سے ان کی دولت میں اضافہ ان کی تنخواہ ہی ایک ذریعہ ہونی چاہئے لیکن ایسا نہیں ہے بلکہ ان کی دولت میں کئی گنا اضافہ ہوتا جاتا ہے اور اس کے برعکس عام شہریوں کی دولت کا اندازہ لگایاجائے تو یہ بات واضح ہوتی جاتی ہے کہ وہ تجارتی مندی‘ بازار کے منفی رجحان ‘ مہنگائی اور دیگر اخراجات سے پریشان حال ہوتے ہیں۔ سیاست میں اقرباء پروری اور اہل سیاست کے قریب رہنے والوں کو فائدہ پہنچایاجانا کوئی نئی بات نہیں ہے لیکن گذشتہ 20 برسوں کے دوران اقرباء پروری اور اپنے حاشیہ برداروں کو کس طرح فائدہ پہنچایاجارہا ہے اس کی کئی مثالیں سامنے آچکی ہیں جس کے سبب امیر اور امیر ہوتا جا رہاہے اور غریب جو ووٹ دیتے ہوئے اپنے رکن پارلیمنٹ یا رکن اسمبلی کو منتخب کرتا ہے وہ غریب ہوتا جا رہاہے۔ اہل سیاست کے قریب رہنے والوں کو کبھی کوئی معاشی مسائل نہیں ہوتے اور نہ ہی وہ حالات کا رونا روتے ہیں بلکہ وہ مندی کے دور میں بھی نئی گاڑیوں کی خریدی اور نئی جائیدادیں بنانے میں مصروف ہوتے ہیں اور ان سے سوال کرنے والا کوئی نہیں ہوتا کہ مندی کے اس دور میں وہ کس طرح سے پر تعیش زندگی گذارنے کے متحمل ہیں؟ملک کی بیشتر ریاستوں میں حکمران اور برسراقتدار طبقہ کی جانب سے کی جانے والی اقرباء پروری پر کئی مقدمات جاری ہیں لیکن اس کے باوجود بھی یہ سلسلہ جاری ہے ۔ سیاستدانوں کے قریب رہنے والے اکثر وہ لوگ ہوتے ہیں جو انتخابات میں ان کیلئے کام کرتے ہیں لیکن منظر عام پر آنے والے کام نہیں کرتے بلکہ ایسے کاموں کا حصہ ہوتے ہیں جو کہ خفیہ طور پر انجام دیئے جاتے ہیں ۔ انتخابات کے دوران سیاستدانوں کی کامیابی کے لئے کی جانے والی سرمایہ کاری کے فوائد انہیں مسلسل حاصل ہوتے رہتے ہیں اور وہ مختلف ایسے کئی کاروبار کا حصہ بنے رہتے ہیں جن میں سیاستداں انہیں فائدہ پہنچاتے رہتے ہیں۔سیاستدانوں کی معیشت کے استحکام کی بنیادی وجوہات اور ان کے مالی مفادات اور ان کی دولت میں ہونے والے اضافہ کے سلسلہ میں اب تک کئی انکشافات منظر عام پر آچکے ہیں اور عام شہری بھی جانتے ہیں کہ کس طرح سے ان کی معیشت مستحکم ہوتی ہے لیکن شہریوں کو اس بات کا اندازہ نہیں ہوتا کہ ان کی جیب سے لوٹی جانے والی دولت ہی ان خزانوں کا حصہ بنتی جاتی ہے جو سیاستدان کے ہیں اور ان خزانوں میں ہونے والے اضافہ کے ساتھ یہ رپورٹس منظر عام پر آتی ہیں کہ سیاستدانوں کی دولت میں کتنا اضافہ ریکارڈ کیا جا رہاہے لیکن اکثر رپورٹس میں اس میں اس بات کو منظر عام پر نہیں لایا جاتا کہ یہ دولت سیاستدانوں کے پاس کہاں سے آتی ہے اور اس دولت میں عوام کی دولت کا حصہ کتنا ہے جو سیاستدانوں کی پرتعیش زندگی کی نذر ہوجاتی ہے۔اس سلسلہ وار تحریر میں ہم اس بات کا انکشاف کریں گے کہ کس طرح سے عوام کی دولت کا بے دریغ استعمال ہورہا ہے اور کو ن اس دولت کے استفادہ کنندگان میں شامل ہیں جو عوام سے وصول کئے گئے ٹیکس سے جمع کی گئی ہے۔