صرف چند ارب پتیوں کی ترقی معیشت کی ترقی نہیں ہوسکتی ۔ اپوزیشن لیڈر کا خطاب
نئی دہلی : کانگریس لیڈر و قائد اپوزیشن راہول گاندھی نے کہا کہ ملک کی اقتصادی حالت مسلسل خراب ہوتی جا رہی ہے اور جی ڈی پی کی شرح نچلی ترین سطح پر آ گئی ہے ۔ اس لیے سب کو یکساں مواقع دے کر معیشت کو ترقی دینے کی ضرورت ہے ۔یہاں پارٹی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے راہول گاندھی نے کہا کہ ہندوستان کی جی ڈی پی کی شرح نمو دو سال میں سب سے کم 5.4 فیصد پر آ گئی ہے ۔ بات واضح ہے – ہندوستانی معیشت اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتی جب تک کہ صرف چند ارب پتیوں کو اس کا فائدہ مل رہا ہو اور کسان، مزدور، متوسط طبقہ اور غریب مختلف معاشی مسائل سے نبرد آزما ہوں۔انہوں نے کہا کہ مہنگائی 14 ماہ کی بلند سطح 6.21 فیصد تک پہنچ گئی ہے ۔ گزشتہ سال اکتوبر کے مقابلے اس سال آلو اور پیاز کی قیمتوں میں 50 فیصد اضافہ ہوا ۔ روپیہ 84.50 کی اب تک کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا ہے اور بے روزگاری 45 سال کے ریکارڈ کو توڑ چکی ہے ۔ پچھلے پانچ برسوں میں مزدوروں، ملازمین اور چھوٹے تاجروں کی آمدنی یا تو رک گئی ہے یا اس میں نمایاں کمی آئی ہے ۔ آمدنی میں کمی کے باعث مانگ میں بھی کمی آئی ہے ۔ دس لاکھ روپے سے کم قیمت والی کاروں کا حصہ 2018-19 میں 80 فیصد سے کم ہو کر 50 فیصد ہو گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ کل فروخت میں سستی مکانات کا حصہ کم ہو کر تقریباً 22 فیصد رہ گیا ہے ، جو پچھلے سال 38 فیصد تھا۔ ایف ایم سی جی مصنوعات کی مانگ پہلے ہی کم ہے ۔ گزشتہ 10 برسوں میں کارپوریٹ ٹیکس کا حصہ 7 فیصد کم ہوا ہے جبکہ انکم ٹیکس کا حصہ 11 فیصد بڑھ گیا ہے ۔ نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کی وجہ سے ، معیشت میں مینوفیکچرنگ کا حصہ گھٹ کر صرف 13 فیصد رہ گیا ہے ، جو 50 برسوں میں سب سے کم ہے ۔انہوں نے کہا کہ جب حقیقی صورتحال ایسی ہے تو روزگار کے نئے مواقع کیسے پیدا ہوں گے ۔ اس لیے ہندوستان کی معیشت کیلئے ایک نئی سوچ کی ضرورت ہے اور کاروبار کیلئے نئی ڈیل اس کا ایک اہم حصہ ہے ۔ معیشت کا پہیہ اسی وقت آگے بڑھے گا جب سب کو آگے بڑھنے کے یکساں مواقع ملیں گے ۔