معاشی حالات سے تنگ اساتذہ بھی خودکشی پر مجبور

   

کورٹلہ میں اسکول کرسپانڈنٹ کا اہلیہ کے ساتھ خودکشی، تعزیتی اجلاس، مقررین کا خطاب

کورٹلہ ۔ کورونا وائرس کی وجہ سے گزشتہ سال سے اسکولس نہ چلنے سے معاشی پریشانیوں سے تنگ آکر کورٹلہ لائف انرجی اسکول کے کرسپانڈنٹ، ای سبرامنیم اور ان کی اہلیہ روہینی نے زہر پی کر خودکشی کرلی۔ ٹیچرس یونین کی جانب سے منعقد کئے گئے تعزیتی جلسہ میں ای سبرامنیم اور ان کی اہلیہ کو تعزیت پیش کی گئی۔ اس موقع پر ٹیچرس یونین کے سرپرست اعلیٰ محمد عبدالغفار نے اپنی تقریر میں کہا کہ گزشتہ 18 ماہ سے اسکولس بند رہنے کی وجہ سے اسکول انتظامیہ اور اسکول میں کام کرنے والے ٹیچرس کی معاشی حالات کافی کمزور ہوچکی ہیں۔ کئی اسکول کے کرسپانڈنٹ اور ٹیچرس ہارٹ اٹیک سے فوت ہوچکے ہیں اور کئی اساتذہ خودکشی کرچکے ہیں۔ اس دوران ملاپور منڈل کوستاپور گاؤں کے ملکارجن کرسپانڈنٹ اسکول پردیپ اسکول کے نہ چلنے سے قرضوں کے بوجھ سے تنگ آکر خودکشی کرچکے ہیں۔ اسی طرح کئی اساتذہ، اسکول منتظمین معاشی حالات سے تنگ آکر خودکشی کرچکے ہیں۔ اس موقع پر طلباء و اولیائے طلباء سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ اس بات کو ذہن میں رکھیں کہ حکومت سرکاری اسکولوں میں تعلیم حاصل کرنے والے طلباء پر 60 ہزار اور اسی ہی طرح اقامتی اسکولوں میں تعلیم حاصل کرنے والے طلباء پر ایک لاکھ 40 ہزار روپے کی رقم خرچ کررہی ہے۔ اسی طرح انٹرنیشنل سی بی ایس اور کارپوریٹ اسکولوں سے لاکھوں میں فیس وصول کرتے لوٹ رہی ہے۔ لیکن ہماری طرح بجٹ اسکولس حکومت کی احکامات کے مطابق معمولی فیس سے معیاری تعلیم فراہم کرتے ہوئے غریب اور اوسط درجہ کے طلباء کو اعلیٰ تعلیم فراہم کررہے ہیں۔ بعد ازاں صدر ٹیچرس اسوسی ایشن ٹی ستیہ نارائنا نے اپنی تقریر میں اولیائے طلباء سے اسکولوں کو بقایا جات ادا کرتے ہوئے اسکول انتظامیہ کے ساتھ تعاون دینے کی اپیل کی۔ اس پروگرام میں جنرل سکریٹری بی شنکر شرما، خاذن کی دیپک، سابق صدر ٹیچرس اسوسی ایشن بنڈی مہادیو، ایم اے باری، بالاجی دمودھر تائی کنڈہ، گیانیشور راؤ و دیگر افراد نے شرکت کی۔