معاشی صورتحال ابتر، سونے کی خریدی میں احتیاط دانشمندی

   

دیگر بڑی خریداریوں سے بھی اجتناب کرنے ماہرین معاشیات کا مشورہ ، سرمایہ کاری کی ترغیب سے بھی گریز
حیدرآباد۔6ستمبر(سیا ست نیوز) ملک کی موجودہ معاشی صورتحال کو دیکھتے ہوئے ماہرین معاشیات کا کہناہے کہ فوری طور پر اخراجات پر قابو پانے کے علاوہ بڑی خریداریوں سے اجتناب کرنے کی ضرورت ہے اور سونے کی خریدی میں احتیاط کیاجانا چاہئے کیونکہ جاریہ سال کے اختتام کے بعد سونے کی قیمتوں میں گراوٹ ریکارڈ کئے جانے کا امکان ہے ۔ بتایاجاتا ہے کہ مالی سال کے پہلے سہ ماہ کے دوران ملک بھر میں زائداز 17لاکھ افراد بے روزگار ہوچکے ہیں اور جو صورتحال ہے اس کا اندازہ لگایا جانا ممکن نہیں ہے کیونکہ جو اقدامات معیشت کو سدھارنے کے لئے کئے جا رہے ہیں ان اقدامات کو ناکافی تصور کیا جا رہاہے۔ بتایاجاتا ہے کہ مرکزی حکومت کی جانب سے معاشی انحطاط کو روکنے کیلئے کئے جانے والے اقدامات ماہرین معاشیات کی نظر میں ناکافی ہیں اور ان حالات میں ماہرین معاشیات کا کہناہے کہ کوئی سرمایہ کاری کا بھی مشورہ نہیں دیا جاسکتا کیونکہ سرمایہ کاری کی صورت میںبھاری نقصانات کا خدشہ ہے کیونکہ اب تک حاصل کئے جانے والے قرضہ جات کی ادائیگی کی صورت میں ہی حالات تبدیل ہوسکتے ہیں

لیکن ا ن حالات کے متعلق پیش قیاسی نہیں کی جاسکتی ۔ شہریوں کو ان حالات میں اپنے اخراجات پر قابو پاتے ہوئے ان کی جانب سے جمع کی جانے والی رقومات کو نقدی کی شکل میں محفوظ کرنے کے اقدامات کرنے چاہئے کیونکہ ان حالات میں نقد رقومات ہی بہتر انداز میں محفوظ قرار دی جاسکتی ہیں۔ بتایاجاتا ہے کہ معاشی بحران کی اس صورتحال سے نمٹنے کیلئے شہریوں کو اپنے طور پر تیاری کرنی چاہئے کیونکہ اگر کو تیاری نہیں کرتے ہیں تو ایسی صور ت میں انہیں بھی سنگین معاشی بحران کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ ماہرین کا کہناہے کہ آئندہ چند ماہ کے دوران چھوٹے تاجرین کو سنگین معاشی بحران کی صورتحال کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے اسی لئے انہیں ان حالات کا سامنا کرنے اور اپنے گھریلو اخراجات پر کنٹرول کرنے کیلئے تیار رہنے کی ضرورت ہے۔ حکومت کی جانب سے اگر معاشی بحران پر قابو پانے کے اقدامات کو قابل عمل بنایا جاتا ہے تو ایسی صورت میں حالات تبدیل ہوسکتے ہیں لیکن اس وقت تک حالات کی سنگین نوعیت کا کوئی بھی اندازہ کرنے کے موقف میں نہیں ہے۔ ڈیجیٹل منی جو کہ مختلف ایپلیکشنس اور شکل میں موجود ہیں ان کے مستقبل کے متعلق بھی ماہرین معاشیات نے خطرات کا اظہار کرنا شروع کردیا ہے جو کہ اس بات کا اندازہ کرنے کیلئے کافی ہے کہ معاشی صورتحال کس حد تک نازک ہوچکی ہے۔