معاشی پسماندہ طبقات کو 10 فیصد تحفظات کے سی آر کا نیا دھوکہ

   


مسلم تحفظات پر حکومت کا موقف غیر واضح، سابق وزیر محمد علی شبیر کا الزام
حیدرآباد: سابق وزیر اور سینئر کانگریسی قائد محمد علی شبیر نے الزام عائد کیا کہ چیف منسٹر نے معاشی طور پر پسماندہ طبقات کو 10 فیصد تحفظات کی فراہمی کا وعدہ کرتے ہوئے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 10 فیصد تحفظات کا وعدہ مسلمانوں کو 12 فیصد اور ایس ٹی کو 10 فیصد تحفظات کی طرح ہے۔ چیف منسٹر نے طویل عرصہ تک مسلمانوں اور درجہ فہرست قبائل کے جذبات کا استحصال کیا اور اب معاشی طورپر پسماندہ طبقات کو تحفظات کا لالچ دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایم ایل سی نشستوں اور ناگرجنا ساگر کے ضمنی چناؤ کے پیش نظر یہ وعدہ کیا گیا اور انتخابات کے بعد بھلادیا جائے گا ۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ اپریل 2014 ء کو چیف منسٹر نے 12 فیصد تحفظات کا وعدہ کیا تھا اور تین برس بعد اسمبلی میں 16 اپریل 2017 ء کو ایک کمزور اور ناقص بل منظور کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ نئے قانون پر عمل آوری کیلئے مرکز سے اجازت کی ضرورت نہیں تھی لیکن تلنگانہ حکومت نے مرکز کو روانہ کیا۔ مرکز کی جانب سے تلنگانہ حکومت کو تین مرتبہ سرکولرس جاری کئے گئے جس میں تحفظات میں اضافہ کی وضاحت طلب کی گئی تھی۔ ٹی آر ایس حکومت نے ایک بھی سرکولر کا جواب نہیں دیا۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح مسلمانوں اور درجہ فہرست قبائل کو تحفظات کے نام پر گمراہ کرتے ہوئے ووٹ حاصل کئے گئے ٹھیک اسی طرح اعلیٰ طبقات کی تائید حاصل کرنے کیلئے 10 فیصد معاشی پسماندہ تحفظات کا نیا شوشہ چھوڑا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی طبقہ کو تحفظات کی فراہمی میں کے سی آر سنجیدہ نہیں ہے۔ محمد علی شبیر نے عوام سے اپیل کی کہ وہ چیف منسٹر کے گمراہ کن وعدوں کا شکار نہ ہوں۔