مائیگرنٹس کیلئے ریلوے کو6کروڑکرایہ کی ادائیگی، مرکز کے دعوے کھوکھلے
حیدرآباد ۔22۔ مئی(سیاست نیوز) معاشی پیاکیج کے سلسلہ میں تلنگانہ حکومت نے مرکزی حکومت کے خلاف حملہ سخت کردیا ہے ۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی جانب سے مرکز کے معاشی پیاکیج کو صد فیصد بوگس قرار دینے کے بعد نائب صدرنشین تلنگانہ پلاننگ بورڈ بی ونود کمار نے مرکز پر غیر ذمہ دارانہ اور غیر انسانی رویہ اختیار کرنے کا الزام عائد کیا ۔ انہوں نے کہا کہ مائیگرنٹ ورکرس اور ریاستوں کے ساتھ مرکز کا رویہ ناقابل قبول ہے۔ ونود کمار نے مائیگرنٹ لیبرس کی منتقلی کے سلسلہ میں مرکز کے دعوؤں کو مسترد کردیا اور کہا کہ تلنگانہ حکومت نے مائیگرنٹ ورکرس کے کرایہ کے طور پر 6 کروڑ روپئے ادا کئے ہیں جس کے تحت 87 ہزار سے زائد مائیگرنٹ ورکرس کو متعلقہ علاقوں کو روانہ کیا جاسکا۔ انہوں نے کہا کہ مرکز نے ریلوے کرایہ کا 85 فیصد برداشت کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن اس اعلان پر عمل نہیں کیا گیا۔ مائیگرنٹ ورکرس کا کرایہ متعلقہ ریاستوں سے وصول کیا گیا اور ساؤتھ سنٹرل ریلوے کو تلنگانہ حکومت نے 6 کروڑ روپئے ادا کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گھٹکیسر تا جھارکھنڈ عام دنوں میں ریلوے کی جانب سے 675 روپئے فی مسافر کرایہ حاصل کیا جاتا ہے لیکن مصیبت کی اس گھڑی میں مرکز نے کوئی رعایت نہیں کی اور ریاستوں کو کرایہ کی ادائیگی پر مجبور کیا گیا ۔ تلنگانہ حکومت نے ابھی تک 63 شرامک خصوصی ٹرینوں کا بہار ، جھارکھنڈ ، اڈیشہ ، اترپردیش ، چھتیس گڑھ اور مغربی بنگال کے لئے انتظام کیا جس کے تحت 87,273 مائیگرنٹ ورکرس کو روانہ کیا گیا ۔ انہوں نے بتایا کہ ہر کوچ میں جہاں 72 نشستوں کی گنجائش ہوتی ہے ریلوے نے سماجی فاصلہ کے نام پر صرف 54 افراد کی اجازت دی لیکن باقی 18 نشستوں کا کرایہ بھی حکومت سے حاصل کیا گیا۔ مرکزی وزراء پیوش گوئل ، نرملا سیتا رمن اور کشن ریڈی نے خصوصی ٹرینوں میں رعایتوں کے بارے میں بلند بانگ دعوے کئے جو جھوٹے اور بے بنیاد ہیں۔