معاہدہ ابراہم :اسرائیل۔ امارات کا ایک اور اہم سال

   

دبئی: اسرائیل، متحدہ عرب امارات اور بحرین کے درمیان ابراہم معاہدے کی روشنی میں تعلقات نارملائزیشن کو آج 15ستمبرکو تین برس مکمل ہو رہے ہیں۔ مراقش اور سوڈان نے اس معاہدے کے بعد ہی اسرائیل سے سفارتی تعلقات استوار کیے۔سفراء کرام، میئرز، وزراء￿ اور کاروباری شخصیات گذشتہ ایک برس کے دوران عرب ملکوں کے اسرائیل سے تعلقات کو انتہائی اہم قرار دیتے ہیں۔زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی نمائندہ شخصیات نے گفتگو کرتے ہوئے اس رائے کا اظہار کیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نگرانی میں طے پانے والے نارملائزیشن معاہدات سے شرق اوسط کے طول وعرض میں تجارت، شراکت داری اور معیشتوں کو فوائد حاصل ہو رہے ہیں۔بحرین میں حال ہی میں تعینات کیے جانے والے اسرائیلی سفیر ایتان نائیہ کے بقول امن معاہدے کے مشرق وسطیٰ پر بھاری بھرکم اثرات مرتب ہوئے۔اسرائیل اور عرب ملکوں کے درمیان تیل کی تجارت سے ہٹ کر ہوا بازی، توانائی، ٹکنالوجی اور صحت کے شعبوں میں کئی ملین ڈالر مالیت کی تجارت کی راہ ہموار ہوئی۔اسرائیلی سفیر ایتان نائیہ کا مزید کہنا تھا کہ نئے ملکوں کے اسرائیل سے سفارتی تعلقات کے قیام کے بعد کاروباری روابط، سرمایہ کاری، سیاحت وتجارت کے فروغ اور عوامی سطح پر تعلقات کی مضبوطی اور خیالات کے تبادلے کے وسیع مواقع پیدا ہوں گے۔ ایتان نائیہ نے بتایا کہ اسرائیل کا سفر اختیار کرنے والے بحرینی شہری وہاں لوگوں سے اپنی ملاقاتوں کے بارے میں خوشگواریت کا اظہار کرتے ہیں۔ ایسے جذبات دیکھ کر میں مشترکہ مستقبل سے متعلق زیادہ پرامید ہونے لگا ہوں۔ مستقبل کے حوالے سے اسرائیلی سفیر ایتان کا کہنا تھا کہ نوجوانوں کے اندر متحد خطے کے فوائد کی جانکاری خوشی کا باعث ہے۔
ابراہم معاہدے کے نتیجے میں نوجوان نسل بحرین اور متحدہ عرب امارات کے درمیان کاروبار کو فروغ پاتا دیکھ رہی ہے، وہ اسے جاری رکھنا چاہتے ہیں تاکہ اس کے فوائد سمیٹ سکیں۔ انہیں فروغ پاتی معیشت دکھائی دیتی ہے، جس کا موازنہ وہ ایران اور لبنان کی صورت حال سے کرتے ہیں۔ ان ملکوں کی سیاسی قیادت کے علاقائی اتحاد سے متعلق غلط فیصلوں کے باعث ان کے عوام دگرگوں معاشی اور سیاسی حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔متحدہ عرب امارات میں آزاد تجارت کے لیے مخصوص زون میں قائم ’’کثیر اجناس مرکز دبئی‘‘ کے انتظامی سربراہ اور سی ای او احمد بن سلیم کہتے ہیں کہ ابراہم معاہدات نے اسرائیلیوں کے لیے متحدہ عرب امارات میں ملازمت اور کاروبار کی راہ ہموار کی ہے۔انہوں نے کہا کہ ابراہم معاہدات پر دستخط کی تیسری سالگرہ کے موقع پر دبئی تیزی سے اسرائیلیوں کے لیے کاروبار کا بڑا عالمی مرکز بن رہا ہے۔ دبئی میں آزاد تجارت کے لیے مخصوص زون میں رجسٹر ہونے والی اسرائیلی کمپنیوں تعداد میں روز بروز اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ اس سال کے آغاز سے فری تجارتی زون میں رجسٹر ہونے والی اسرائیلی کمپنیوں کی تعداد میں 42 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔