معذور افرادکوبلدیہ اور گرام پنچایتوں میں نامزدعہدے فراہم کرنے کا مطالبہ

   

این پی آر ڈی کے زیراہتمام سنگاریڈی میں معذورین کا اجلاس ۔دستخطی مہم کا آغاز

سنگا ریڈی 5 مارچ (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) سنگاریڈی میں ریاستی سطح پر معذور دو افراد کو بلدیہ اور گرام پنچایت انتخابات میں نامزد عہدہ فراہم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے معذور افراد کی جانب سے ایک لاکھ دستخط ریاستی سطح پر جمع کرنے کی تحریک کا اغاز کرتے ہوئے این پی آر ڈی کے ریاستی جنرل سکریٹری ایم اڈیوایا سنگاریڈی ضلع صدر ایم بسواراجو، اور سکریٹری کے نرسمولو نے سنگا ریڈی میں معذور افراد کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ریاست تلنگانہ میں گرام پنچایت، میونسپلٹی، منڈل پریشد اور ضلع پریشد میں دو معذور افراد کی نامزدگی کی اجازت دینے کے لیے خصوصی قانون بنایا جائے انہوں نے سنگاریڈی ٹاؤن میں ایک ریاست گیر مہم کے ایک حصہ کے طور پر یکم تا 30 مارچ ایک لاکھ دستخط جمع کرنے کی مہم شروع کی جس میں معذوروں کو بلدیاتی اداروں میں نمائندگی فراہم کرنے کے لیے اسمبلی میں خصوصی قانون بنانے کا مطالبہ کیا گیا نیشنل دیسبلد اسٹڈیز کی رپورٹ کے مطابق ریاست تلنگانہ میں 43.02 لاکھ افراد (ریاست کی آبادی کا 12.02 فیصد) معذور ہیں، ڈسمبر 2024 تک 12769 گرام پنچایتیں، 130 میونسپلٹی، 13 میونسپل کارپوریشنز، 13 540 منڈل پرشد ، 32 ضلع پرشد شامل ہے اور راجستھان اور چھتیس گڑھ کی ریاستی حکومت پہلے ہی دو معذور افراد کو مقامی اداروں میں نامزد کرنے کے لیے خصوصی قوانین نافذ کر رہی ہیں آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے وعدے کے مطابق کانگریس پارٹی ریاست میں اقتدار میں ہے، ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ پنچایت راج ایکٹ اور میونسپل ایکٹ میں ترمیم کی جائے تاکہ دو معذور افراد کی نامزدگی کی اجازت دی جا سکے۔ اگر دو معذور افراد کو بلدیاتی اداروں میں نامزد کیا جاتا ہے تو، گرام پنچایتوں میں25.238 بلدیہ میں 260، میونسپل کارپوریشنوں میں 26، منڈل پرجا پریشد میں 1080 اور ضلع پریشد میں 64 افراد کو سیاسی مواقع دستیاب ہوں گے اور حکومت پر کوئی مالی بوجھ عائد نہیں ہوگا معذور نامزد عہدو کے لیے اسمبلی میں خصوصی طور پر منظوری دینے کا مطالبہ کیا معذوروں کے لیے ریزرویشن کے لئے میں 1 سے 30 مارچ 2025 تک ریاست بھر میں منعقد ہونے والی دستخطی تحریک میں حصہ لینے کی اپیل کی گئی ہے اس موقع پر این پی آر ڈی ویمنس ونگ کی ریاستی کنوینر سائی اما، ریاستی کمیٹی کی رکن جیالکشمی، ضلع قائدین راج کمار، رام چندر، ستیہ نارائنا، شنکر، اور دیگر موجودتھے۔