معروف سماجی کارکن شرجیل امام کی ضمانت عرضی خارج

   

نئی دہلی: دہلی کی کڑکڑڈوما عدالت نے جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے ریسرچ اسکالر شرجیل امام کے خلاف 2019 میں درج کے گئے ایک معاملے میں ضمانت عرضی کو خارج کر دی ہے۔ ایڈیشنل سیشن جج امیتابھ راوت نے یہ فیصلہ سنایا۔ کورٹ نے 6 جون کو فیصلہ محفوظ کرلیا تھا، 30 مئی کو کورٹ نے دہلی پولیس کو نوٹس جاری کیا تھا۔دراصل دہلی ہائی کورٹ نے شرجیل امام کو ٹرائل کورٹ میں جا کر ضمانت کی درخواست دائر کرنے کی اجازت دی تھی۔ درخواست میں ملک مخالف سرگرمیوں کے معاملے میں سُپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کو بنیاد بنایا گیا ہے، جس میں سُپریم کورٹ نے بغاوت کے معاملے میں مقدمات درج نہ کرنے کا حکم دیا ہے۔ سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں کہا تھا کہ جب تک مرکزی حکومت غداری کے معاملے پر دوبارہ غور نہیں کرتی، اس معاملے میں کوئی نئی ایف آئی آر درج نہیں کی جائے گی۔ سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ جو لوگ غداری کیس میں ملزم ہیں وہ ضمانت کے لیے عدالتوں میں عرضی دائر کر سکتے ہیں۔