امام اور نائب امام کے عدم تقرر سے فائدہ اٹھانے کی کوشش ۔ 100 طالبات بھی مسجد کے اندر موجود
اسلام آباد 8 فبروری ( سیاست ڈاٹ کام ) پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد کی سرکاری لال مسجد کے مولوی مولانا عبدالعزیز نے ایک پھر اس سرکاری مسجد میں داخلہ حاصل کرلیا ہے اور وہ ایک طرح سے حکومت کا امتحان لے رہے ہیں۔ ان کا دعوی ہے کہ وہ اس مسجد کے امام ہیں۔ مولانا عبدالعزیز کو 2004 میں ایک فتوی جاری کرنے کے بعد حکومت نے امام کے عہدہ سے بیدخل کردیا تھا ۔ اس فتوی میں انہوں نے فوج اور دہشت گردی کے خلاف وزیرستان میںکی گئی کارروائی کی مخالفت کی تھی ۔ تاہم انہیں2009 میں جیل سے رہائی کے بعد دوبارہ امام مقرر کردیا گیا تھا ۔ انہوں نے 2014 میں پشاور کے آرمی پبلک اسکول میں حملے کی مدافعت کرتے ہوئے ایک اور تنازعہ پیدا کردیا تھا ۔ انہوں نے کہا تھا کہ یہ حملہ در اصل دہشت گردوں نے فوجی کارروائیوںکے رد عمل میںکیا تھا ۔ لال مسجد سرکاری مسجد ہے اور عبدالعزیز کے والد مولانا عبداللہ اس کے پہلے امام تھے ۔ 1990 کی دہائی میں ان کے قتل کے بعد مولانا عبدالعزیز کو اسلام آباد دارالحکومتی علاقہ اوقاف محکمہ کی جانب سے امام مقرر کیا گیا تھا ۔ مولانا عبدالعزیز اب ملک کی صورتحال کا فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جہاں حکام دوسرے کاموں میں مصروف ہیں۔ محکمہ اوقاف کی جانب سے اب تک کسی امام یا نائب امام کا تقرر نہیں کیا گیا ہے ۔ اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے عبدالعزیز مسجد میں دو ہفتے قبل ہی داخل ہوچکے ہیں اور ان کے ساتھ ان کی طالبات بھی موجود ہیں۔ فی الحال دارالحکومتی علاقہ کے حکام نے مسجد کے علاقہ کو محاصرہ میں لے رکھا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ حکام یا پھر مولانا عبدالعزیز اپنے اپنے موقف پر اٹل ہیں اور وہ پیچھے ہٹنا نہیں چاہتے ۔ کہا گیا ہے کہ جامعہ حفصہ کی تقریبا 100 طالبات جمعرات کی رات میںاس مقفل عمارت میں داخلہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی تھیں۔ اس کے نتیجہ میںعلاقہ کے حکام لال مسجد پہونچے تاکہ عبدالعزیز سے ملاقات کی جاسکے تاہم بات چیت غیر مختتم رہی کیونکہ عبدالعزیز کا اصرار ہے کہ ایک وفاقی وزیر کے رتبہ کے کسی عہدیدار کو ان سے مذاکرات کیلئے آگے آنا چاہئے ۔ عبدالعزیز نے مسجد کے اندر سے فون پر ایک اخبار سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ ایک بار پھر سابقہ غلطی دہرانا چاہتے ہیں۔ وہ لوگ سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل نہیں کروا رہا ہیں اور وہ ملک میںشرعی قوانین نافذ کرنے میں پس و پیش کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکام نے ہمیں ایک مہدت دی ہے کہ ہم جامعہ حفصہ کا تخلیہ کردیں ۔ بصورت دیگر کارروائی کا انتباہ بھی دیا گیا ہے ۔ ہماری غذائی سپلائی بند کردی گئی ہے لیکن ہم اسلام کی خاطر پیچھے ہٹنے تیار نہیں ہیں اور ڈٹے رہیں گے ۔ مولانا عبدالعزیز نے کل جمعہ کے موقع پر مسجد میںخطبہ بھی دیا اور حکام کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا ۔ ان کا کہنا تھا کہ وقت کے حکمران ملک کے مفادات کے خلاف کام کر رہے ہیں اور شرعی اصولوں کی انہیں پرواہ نہیں ہے ۔
