معصوم بچوں کے ذہنوں میں فرقہ واریت کا زہر تشویشناک

   

Ferty9 Clinic

مسلمانوں کے خلاف کمسن بیٹے کے ذہن کو صاف کرنے ایک باپ کی کامیاب حکمت عملی

حیدرآباد۔9جولائی (سیاست نیوز) معصوم ذہنو ںکو آلودہ ہونے سے بچانے کیلئے یہ جاننے کی کوشش کرتے رہیں کہ بچوں کے ذہنوں میں کیا چل رہا ہے اور وہ کس نہج پر چل رہے ہیں۔ معاشرہ میں پھیل رہی برائیوں میں موجود ہ حالات میں سب سے اہم برائی معصوم بچوں کے ذہنوں میں فرقہ واریت کے زہر کا فروغ ہے جسے روکنا انتہائی ضروری ہے۔ گذشتہ دنوں کے دوران سچے واقعہ پر مشتمل ایک ای ۔میل موصول ہوا جس میں ایک باپ نے اپنے بیٹے کے سوال پر حیرت و استعجاب کے ساتھ اس کو حقیقت سے واقف کرواتے ہوئے ذہن میں پیدا ہونے والی فرقہ واریت کو دور کرنے کی کامیاب کوشش کی ۔ ای۔میل میں باپ نے بتایا کہ ایک دن پانچویں جماعت میں تعلیم حاصل کر رہے اس شخص کے بیٹے نے اس سے سوال کیا کہ Dad کیا مسلمان ہمارے دشمن ہیں؟ بچہ کا سوال معصوم تھا لیکن اس کے پیچھے اس کے ذہن کی عکاسی ہونے لگی تھی جسے باپ نے محسوس کرتے ہوئے استفسار کیا کہ ایسا کیوں پوچھ رہے ہو؟ جس پر بچہ نے معصومیت کے ساتھ جواب دیا کہ اس کی اپنی ہی جماعت میں الطاف نامی لڑکا ہے اور اس لڑکے کا کوئی دوست نہیں ہے اور کوئی اس کے ساتھ نہیں بیٹھتا اور نہ ہی کوئی بات کرتا ہے اس کے علاوہ اگلے دن تمام دوستوں نے مل کر اسے پیٹنے کا منصوبہ تیار کیا ہے کیونکہ وہ ہمارا دشمن ہے۔باپ نے یہ سن کرپوچھا کہ کس نے کہا کہ وہ دشمن ہے تو بچے نے جواب دیا کہ ہمیں جب شیواجی مہاراج کے متعلق پڑھایا جا رہا تھا تو اس میں یہ بات سامنے آئی اور ان کی تاریخ میں یہ بھی ہے کہ مسلمانوں نے دشمنی کی ہے۔ بچہ کے جواب پر باپ نے بچہ سے کہا کہ شیواجی کی فوج میں بھی بہت سارے مسلمان تھے اس کے علاوہ انگریزوں نے بھی ہندستان پر حملہ کیا اور کئی ہندستانیوں کا قتل عام کیا تو تمہاری (مارٹن انکل) کے متعلق کیا رائے ہے؟ مارٹن اس کے باپ کے دوست کا نام ہے جو برطانوی ہے جیسے ہی بچے نے سوال سنا تو کہہ دیا کہ وہ ہمارے دشمن نہیں ہوسکتے تب باپ نے اپنے 5سالہ بیٹے کے ذہن کو مزید وسیع کرنے کیلئے کہا کہ مغلوں کے خلاف شیواجی کے ساتھ لڑنے والوں میں بھی بہت سارے مسلمان موجود تھے جس طرح آج ہندستانی فوج میں کئی مسلمان موجود ہیں جو کہ پاکستان سے جنگ کی صورت میں اس سے مقابلہ کیلئے ہمہ وقت تیار ہیں۔ بچہ یہ سن کر دوڑنے لگا جس پر باپ نے بچہ سے پوچھا کہ کیا ہوا الطاف دوست ہے یا دشمن!جس پر بچہ کہنے لگانہیں کل وہ الطاف کے ساتھ بیٹھے گا اور اس سے دوستی کرے گا۔ جس پر والد نے کہا کہ اگر تم الطاف کے ساتھ بیٹھوگے تو تمہارے دوست بھی تمہیں اپنا دشمن تصور کریں گے جس پر بچہ نے معصومیت کے ساتھ کہا کہ جس وقت میں پیدا ہوا تھا اس وقت وہ میرے دوست نہیں تھے اور میں اپنی پسند اور مرضی سے اپنے دوستوں کا انتخاب کروں گا۔ اس واقعہ سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ بچوں کے ذہن کس طرح کام کر رہے ہیں اور انہیں کس طرح تیار کرنے کی ضرورت ہے۔ اسی لئے والدین کو چاہئے کہ وہ اپنے بچوں کی حرکتوں اور ان کے ذہن میں چل رہے رجحان پر غور کرتے رہیں۔