جئے پور ۔ یکم ؍جنوری (ایجنسیز) راجستھان پولیس نے ایک طویل کثیر ریاستی تلاشی کے بعد دھولپور ضلع میں 16 سالہ لڑکی کے ساتھ زیادتی کے الزام میں معطل کانسٹیبل رام بھروسے عرف راجندر سیسوڈیا کو اترپردیش کے ورنداون سے گرفتار کر لیا۔گرفتاری کے وقت ملزم نے خود کو بچانے کیلئے عورت کا بھیس اختیار کر رکھا تھا، برقعہ اور لپ اسٹک لگا کر پولیس کی نظر سے بچنے کی کوشش کر رہا تھا۔ واقعہ 15 دسمبر کو پیش آیا، جب سیسوڈیا نے لڑکی اور اس کے بھائی کو نوکری کا جھانسہ دے کر اپنے گھر بلایا۔ پولیس کے مطابق، اس نے بھائی کو بازار بھیج دیا اور اس دوران لڑکی کے ساتھ زیادتی کی۔ لڑکی کی چیخیں سن کر پڑوسی جمع ہو گئے اور احتجاج شروع ہو گیا، لیکن ہنگامے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ملزم فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔گرفتاری سے بچنے کیلئے سیسوڈیا بار بار اپنا حلیہ بدلتا رہا۔ پولیس نے اس کی نقل و حرکت آگرہ، لکھنؤ اور گوالیار تک ٹریس کی، لیکن وہ مختلف بھیس بدل کر پولیس سے بچتا رہا، کبھی ٹریک سوٹ یا جیکٹ پہن کر خود کو وی آئی پی یا سینئر پولیس افسر ظاہر کرتا تھا۔ ایس پی وکاس سنگھوان کے مطابق ملزم مسلسل اپنا حلیہ بدل رہا تھا۔
