خرید و فروخت کو روکنے ہنگامی منصوبہ، ڈی کے شیو کمار کا اہم رول، 70 سے زائد نشستوں پر کامیابی کا یقین
حیدرآباد ۔یکم۔ڈسمبر (سیاست نیوز) تلنگانہ اسمبلی چناؤ کے نتائج کو ابھی ایک دن باقی ہے لیکن کانگریس پارٹی نے معلق اسمبلی کی صورت میں ابھی سے احتیاطی تدابیر اختیار کرلی ہے ۔ کانگریس کو 119 رکنی تلنگانہ اسمبلی میں 70 سے زائد نشستوں پر کامیابی کا یقین ہے لیکن اگر معلق اسمبلی تشکیل پاتی ہے تو ارکان اسمبلی کی خرید و فروخت کو روکنے کیلئے ایکشن پلان تیار کیا گیا ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق کرناٹک کے ڈپٹی چیف منسٹر ڈی کے شیو کمار کی نگرانی میں ایکشن پلان کو منظوری دی گئی جس کے تحت تمام منتخب ارکان اسمبلی کو خصوصی طیارہ کے ذریعہ بنگلور منتقل کردیا جائے گا۔ امیدواروں سے کہا گیا ہے کہ وہ نتائج کے اعلان کے ساتھ ہی کسی بھی وقت بنگلور روانگی کیلئے تیار رہیں۔ کرناٹک میں کانگریس پارٹی برسر اقتدار ہے ، لہذا بنگلور منتقلی کی صورت میں ارکان اسمبلی کا بہتر طور پر تحفظ کیا جاسکتا ہے۔ تلنگانہ کی انتخابی سرگرمیوں میں ڈی کے شیو کمار نے اہم رول ادا کیا اور وہ خود کئی دن تک حیدرآباد میں قیام کرتے ہوئے مہم کی نگرانی کرتے رہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق بنگلور میں ارکان اسمبلی کا کیمپ قائم کرتے ہوئے بی آر ایس یا بی جے پی کی جانب سے خرید و فروخت روکنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ کامیاب ہونے والے امیدواروںکی نشاندہی کرلی گئی ہے۔ قائدین کا کہنا ہے کہ زیادہ تر میڈیا اداروں نے کانگریس کو واضح اکثریت کی پیش قیاسی کی ہے لیکن بی آر ایس کو معلق اسمبلی کا یقین ہے اور وہ گزشتہ دو اسمبلی انتخابات کی طرح کانگریس ارکان اسمبلی کو خریدنے کے فراق میں ہے۔ 2014 ء اسمبلی چناؤ کے بعد کانگریس ، تلگو دیشم اور سی پی آئی کے ارکان اسمبلی کو ٹی آر ایس میں شامل کرلیا گیا تھا۔ 2018 ء چناؤ کے بعد کانگریس کے 12 اور تلگو دیشم کے 2 ارکان اسمبلی نے بی آر ایس میں شمولیت اختیار کرلی تھی۔ اندیشہ ہے کہ معلق اسمبلی کی صورت میں کے سی آر گزشتہ دو انتخابات کی تاریخ کو دہرا سکتے ہیں۔ لہذا منتخب ارکان اسمبلی کو بی آر ایس کے ربط میں آنے سے روکنے کیلئے بنگلور منتقل کیا جاسکتا ہے۔ صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی نے اس سلسلہ میں ہائی کمان سے منظوری حاصل کرلی ہے اور وہ کرناٹک کے ڈپٹی چیف منسٹر ڈی کے شیو کمار سے ربط میں ہیں۔ ریونت ریڈی کے قریبی ذرائع نے بتایا کہ ارکان اسمبلی کو بنگلور منتقل کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی کیونکہ انتخابی حکمت عملی کے ماہر سنیل کنگولو نے رائے دہی کے بعد کانگریس کو واضح اکثریت کی پیش قیاسی کی ہے۔ مئی 2018 ء میں کرناٹک اسمبلی میں یدی یورپا حکومت کے تحریک اعتماد پر ووٹنگ کے موقع پر ڈی کے شیو کمار نے کانگریس اور جنتا دل سیکولر کے ارکان اسمبلی کو حیدرآباد منتقل کرتے ہوئے انحراف کو روکنے میں کامیابی حاصل کی تھی۔