بچوں کیلئے تعلیم و تربیت کی فکر کرنا والدین کی ذمہ داری ، لنگناپیٹ ضلع سرسلہ میں جلسہ تعلیمی مظاہرہ ، علماء کا خطاب
گمبھی راؤ پیٹ ۔بچوں کو قرآن کی تعلیم واسلامی تربیت ضروری ہے ،بچے آج چھوٹے ہیں اِنھیں حفظ یاد کرنا آسان ہے ،بچوں کو قرآن کی تعلیم وتربیت کی فکر کرنا ماں باپ کی اہم ذمہ داری ہے ،وہ ماں باپ جو اپنے بچوں کو دنیا میں قرآن کی تعلیم سے آراستہ کرائیں گے اُنھیں روزمحشر اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ اعزازو اکرام کے جوڑے پہنائیں گے جن کے بچے حافظ قرآن بنیں گے اُنکے سرپر آفتاب ومہتاب سے بھی زیادہ روشن تاج پہنایاجائیگا ،اِن خیالات کااظہار حافظ محمد فہیم الدین منیری ناظم مجلس تحفظ ختم نبوت ٹرسٹ کاماریڈی کے مکتب حضرت صہیب بن سنان ؓ ضلع راجنا سرسلہ ، لنگنا پیٹ کے سالانہ جلسہ تعلیمی مظاہرہ سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے کیاکہا کہ ہمارے اس علاقے میں دیگر ریاست سے تعلق رکھنے والے علماء حفاظ کا بڑا احسان ہے کہ دور دراز سے آکر یہاں دین کی خدمت کررہے ہیںمجاہدے کے ساتھ کم تنخواہوں میںبھی بہترین خدمت انجام دے رہے ہیں، ہمیں بھی چاہئے کہ ان علماء حفاظ کی قدر کریں،اُنکی عزوت واکرام کریں ۔بچوں کی تعلیم کے ساتھ بڑوں کی تعلیم کی بھی فکر کرنے کی ضرورت ہے ، وضو ، نماز ، غسل ، نماز جنازہ ، وودیگر عبادات کا طریقہ وفرائض وواجبات سے واقفیت کیلئے کسی ایک نماز کے بعد تعلیم بالغان کا سلسلہ شروع کریں ،ہم عالم بنیں یا طالب علم بنیں علم دین سے کھتے رہیں ،نیز عوام کو ایک بات کی طرف پرزور ترغیب دلاتے ہوئے کہا کہ ہمارا ملک عزیزبھارت گنگا جمنی تہذیب کا گہوارہ ہے حضرت مولانا سید ارشد مدنی کا ملک کے باشندوں کیلئے یہی پیغام ہے کہ اس ملک کی ترقی پیار ومحبت کی فضاء سے ہی قائم ہوسکتی ہے ،ہمیں چاہئے کہ ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہوں خوشی کے موقع پر مبارکباد دیں،آنے والوں کا صحیح استقبال کریں ،قدر کریں ،پڑوسیوں کے ساتھ حسن سلوک کا معاملہ کریں کسی کو بھی کسی قسم کی تکلیف نہ دیں ،پیارے آقا ﷺ نے پڑوسیوں کے ساتھ حسن سلوک کی تعلیم دی ہے،قوم کے بڑوں کے ساتھ اکرام کا معاملہ فرمایا ہے ۔اس پروگرام سے مولانا نظر الحق صاحب قاسمی دیناجپوری ناظر مجلس تحفظ ختم نبوت ٹرسٹ کاماریڈی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لنگنا پیٹ میں ہر سال تعلیمی مظاہرہ ہوتا ہے یہاں سے تعلیم حاصل کئے ہوئے طلباء مجلس تحفظ ختم نبوت ٹرسٹ کاماریڈی کے سالانہ پروگرام میں حصہ لیتے ہیں اور نمایاں مظاہرہ پیش کرتے ہیں ،طلباء کے تعلیمی مظاہرہ پر تاثرات پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان بچوں کا بڑوں کے سامنے پروگرام پیش کرنا بہت ہمت کی بات ہے ۔مولانا نے کہا کہ ہرکام مشورہ سے کر نا چاہئے اس سے بہت فائدے ہیں،غیر مسلموں کے ساتھ محبت اور ہمدردی کا معاملہ کریں،نیز بحیثیت مہمان خصوصی مولانا منظور عالم مظاہری نے شرکت کی اورمکاتب کی اہمیت پرروشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ہم جس طرح بچوں کی عصری تعلیم کا فکر کرتے ہیں اسی طرح بلکہ اس سے بھی زیادہ بڑھ کر ہم دینی تعلیم کی فکر کریں ،ورنہ بعید نہیں کہ ارتداد کی لہریں رات دن ہمارے پیچھے پڑتے رہیں گے ،پھر ہماری نسلوں سے دین ایمان ختم ہو جائیگا ،ماضی میں قادیانی لنگنا پیٹ کے مضافاتی علاقوں میں کیسی محنت کررہے تھے ،اللہ کا شکر ہے کہ اللہ نے ہمیں معلم کی نعمت سے سرفراز فرمایا ۔اس پروگرام میں قائدین نے بھی شرکت کی۔