عوام کو بدحالی سے بچانے ہر سطح پر حکومت سے تعاون کیلئے تیار ہیں ، کانگریس کا بیان
ادے پور (راجستھان): کانگریس نے کہا ہے کہ ملک کی معیشت انتہائی تشویشناک حالت میں پہنچ گئی ہے ، ترقی کی رفتار ٹھپ ہو کر رہ گئی ہے اور چاروں طرف مہنگائی اور بے روزگاری کا ماحول ہے ، اس لیے معیشت کو واپس ٹریک پرلانے کیلئے نئے ڈھنگ سے کام کرنے کی ضرورت ہے ۔سابق مرکزی وزیر پی چدمبرم، جنہوں نے کانگریس چنتن شیویر کی اقتصادی امور کی کمیٹی کی سربراہی کی، نے ہفتہ کو یہاں کمیٹی کی میٹنگ کی صدارت کرنے کے بعد ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ مرکزی اور ریاستی حکومتوں کے درمیان باہمی اعتماد پوری طرح سے ٹوٹ چکا ہے اور معاشی حالت بہت خراب ہو چکی ہے ۔ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں اور بے روزگاری اپنے عروج پر پہنچ گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ معاشی حالت اس حد تک خراب ہو چکی ہے کہ اسے دوبارہ پٹری پر لانے کیلئے نئے سرے سے کام کرنے کی ضرورت ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت اقتصادی حالت کو بہتر بنانے کیلئے اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلنے کیلئے تیار نہیں ہے ، لیکن کانگریس اپنی تجاویز سے معیشت کو بہتر بنانے اور عوام کو بدحالی کی طرف جانے سے بچانے کیلئے حکومت کے ساتھ ہر سطح پر تعاون کرنے کیلئے تیار ہے ۔کانگریس لیڈر نے کہا کہ ‘نو سنکلپ چنتن شیور’ میں اقتصادی امور کی کمیٹی کی میٹنگ میں 60 شرکاء نے حصہ لیا، جس میں 37 لوگوں نے چار گھنٹے تک اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ ارکان آج اور کل بھی اس معاملے پر بات کریں گے ۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران ملکی معیشت کی شرح ترقی میں مسلسل کمی آرہی ہے ، مہنگائی میں غیر معمولی اضافہ ہورہا ہے اور حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہے ۔ حکومت معاشی اصلاحات کیلئے کوئی ٹھوس اقدامات کرنے سے قاصر ہے جس کی وجہ سے معیشت کی صحت مسلسل بگڑ رہی ہے۔مسٹر چدمبرم نے کہا کہ ملک میں لیبر فورس شیئر کی شرح 40.38 فیصد کی تاریخی کم ترین سطح پر آ گئی ہے ، جب کہ بے روزگاری کی شرح 7.83 فیصد تک پہنچ گئی ہے ۔ گزشتہ 7 ماہ کے دوران 22 ارب ڈالر ملک سے باہر جا چکے ہیں اور روپیہ ڈالر کے مقابلے 77.48 کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا ہے ۔