معین آباد عصمت ریزی کیس کا ملزم ٹی آر ایس لیڈر مدھو یادو گرفتار

,

   

واقعہ پر عوامی برہمی میں اضافہ ۔ معین آباد ‘ جڑچرلہ ‘ نظام آباد کے علاوہ شہر میں مختلف مقامات پر احتجاجی مظاہرے

حیدرآباد۔ معین آباد کی مسلم لڑکی کی عصمت ریزی اور اسے خودکشی پر آمادہ کرنے کے واقعہ میں ملوث درندہ صفت ملزم ٹی آر ایس لیڈر کو سائبر آباد پولیس نے گرفتار کرلیا ۔ ٹی آر ایس لیڈر مدھو یادو کو آج پولیس نے حراست میں لے کر اس کی تفتیش کی اور بعد ازاں اس کیس کے دفعات میں ترمیم کرکے اس پر دیگر ایکٹ نافذ کرتے ہوئے جیل بھیجا جارہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق معین آباد پولیس نے راجندر نگر کی عدالت میں رپورٹ پیش کرکے دفعات میں ترمیم کی ۔ مہلوک مسلم لڑکی کی کم عمر بہن نے معین آباد پولیس سے واردات کے بارے میں شکایت درج کروائی جس پر پولیس نے ابتداء میں تعزیرات ہند کی دفعہ 354 ( دست درازی ) اور 306 ( خودکشی پر آمادہ کرنا) کے تحت ایک مقدمہ درج کیا تھا لیکن اس واقعہ کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج کے نتیجہ میں پولیس نے دفعات میں ترمیم کرکے ملزم مدھو یادو جو ٹی آر ایس لیڈر ہے کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعہ 376(2)(K) ، 306 ، 354 اور جونیل جسٹس ایکٹ کی دفعہ 75 اور 79 کے تحت ملزم کو گرفتار کیا ہے۔لڑکی نے 25 ستمبر کومعین آباد کے علاقہ حمایت نگر منڈل میں واقع مدھو یادو کے مکان کے کمرہ میں خودکشی کرلی تھی اور اسے عام خودکشی قراردے کر مدھو یادو نے پولیس کو یہ کہتے ہوئے گمراہ کرنے کی کوشش کی کہ لڑکی نے پیٹ میں شدید درد کے نتیجہ میں انتہائی اقدام کیا ہے۔

عدالت میں داخل پولیس رپورٹ میں کہا گیا کہ مدھو یادو چند دنوں سے حالت نشہ میں مذکورہ لڑکی کو ہی نہیں بلکہ اس کے افراد خاندان کو بھی دھمکارہا تھا۔ پولیس نے بتایا کہ مہلوک لڑکی حیا بیگم (نام تبدیل ) مدھو یادو کے مکان میں گھریلو ملازمہ کی حیثیت سے کام کرتی تھی اور آئے دن مدھو یادو اسے جنسی طور پر ہراساں کرنے لگا تھا اور اکثر اپنے کمرہ میں اس کے ساتھ نازیبا حرکت کرتا تھا۔ لڑکی کے والد اور بھائی دونوں نے پولیس میں اپنا بیان درج کروایا ہے۔ مذکورہ لڑکی ایک غریب خاندان سے تعلق رکھتی تھی اور اس کی مجبوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مدھو یادو نے اس کے ساتھ درندہ صفت حرکت کرتے ہوئے اس کی جان لے لی۔ حالانکہ پولیس نے اس سلسلہ میں مقدمہ درج کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار کرلیا اور نعش کا پوسٹ مارٹم بھی دواخانہ عثمانیہ میں کروایا لیکن اس پوسٹ مارٹم کی رپورٹ کا پولیس کو انتظار ہے۔ مسلم لڑکی کی عصمت ریزی اوراسے خودکشی پر آمادہ کرنے کا واقعہ آج شدت اختیار کرگیا۔ معین آباد حمایت نگر، معین آباد پولیس اسٹیشن، جڑچرلہ، نظام آباد کے علاوہ شہر میں بھی اس واردات کے خلاف احتجاج کئے گئے۔ معین آباد گروکل اسکول روڈ پر آج ٹریفک دو گھنٹے سے زیادہ متاثر ہوگئی کیونکہ تحریک مسلم شبان کے جناب مشتاق ملک، کانگریس لیڈر خواجہ بلال احمد، سماجی کارکن سید سلیم اور دیگر نے احتجاج کیا اور ملزم کے خلاف سخت کارروائی کرنے اور اس کی سزا کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔ اس کے علاوہ کئی مسلم تنظیموں نے بھی موم بتیوں کے ساتھ مظاہرہ کرتے ہوئے اس واقعہ کی سخت مذمت کی اور ملزم کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔ خواتین کے ایک گروپ نے جس کی قیادت کانگریس لیڈر عظمیٰ شاکر نے کی اے سی پی راجندر نگر کے دفتر کے روبرو احتجاج کرتے ہوئے مدھو یادو کے خلاف کارروائی کرنے اور اسے سزا دلانے کا مطالبہ کیا۔ آج رات دیر گئے مقامی نوجوانوں نے ٹولی چوکی علاقہ میں بھی اس واقعہ کے خلاف راستہ روکو احتجاج کیا۔نامپلی کریمنل کورٹ کے قریب خواتین کی تنظیموں نے بھی احتجاجی مظاہرہ کیا ۔