انصاف پسند شہریوں اور متاثرہ افراد خاندان میں شبہات
حیدرآباد : معین آباد مسلم لڑکی کی عصمت ریزی اور مبینہ قتل کے معاملہ میں جاری تحقیقات پر انصاف کے منتظر شہریوں اور متاثرہ لڑکی کے افراد خاندان میں شبہات پائے جاتے ہیں ۔ دونوں بہنوں کو کام کے نام پر اپنی قید میں رکھتے ہوئے ان پر مظالم ڈھانے والا مدھو یادو کہیں پولیس معین آباد کی کارروائی سے بچنے میں کامیاب نہ ہوجائے ۔ ایسے ہی خدشات اس لڑکی کے خاندان سے ہمدردی رکھنے والوں اور انصاف کے منتظر شہریوں میں پیدا ہونے لگے ہیں ۔ تاہم شہریوں کو سائبرآباد پولیس پر بھروسہ و اطمینان بھی ہے جو شہریوں نے اپنے تاثرات کے دوران بتایا اور حالیہ کارروائیوں کا حوالہ بھی دیا جس میں شاد نگر دیشا کا کیس ہو یا پھر عزت کیلئے ہوا قتل ، ہیمنت کمار کا کیس ہو یا پھر امین پور کا واقعہ ہو جس میں خاطیوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کیلئے پولیس سائبرآباد نے کافی دلچسپی سے کام لیا اور متاثرین کو انصاف بھی دلایا لیکن سائبرآباد پولیس کی تعریف کرنے والی یہ عوام معین آباد کے معاملہ میں خدشات کو ظاہر کیا ہے ۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ پر انحصار کرنے والے اس سنسنی خیز واقعہ میں پولیس نے عوامی احتجاج کے بعد دفعات میں تبدیلی لاتے ہوئے اسے سخت کردیا جبکہ قید میں رکھتے ہوئے عصمت ریزی ،قتل اور ثبوت مٹانے جیسے دفعات کا کوئی تذکرہ نہیں ، چونکہ متوفیہ کی چھوٹی بہن آفرین نے جو کیس میں شکایت گذار ہے نے پولیس کو دیئے گئے اپنے بیان میں بتایا تھا کہ مدھو نے اس پر اس کی مرضی کا بیان دینے کیلئے دباؤ ڈالا تھا ۔ تو کیا لڑکی نے واقعی حقیقی بیان دیا ہے یا پھر پولیس نے رسمی کارروائی کے تحت لڑکی کا بیان درج کیا ہے ۔ حالانکہ یہ دونوں بہنیں بھی کام کرتی تھیں ۔ مدھو کے مکان میںجس میں آفرین کمسن ہے اور اس لڑکی کو بھی برابر کے مظالم کا سامنا تھا اور ان دفعات کے ذریعہ پولیس معین آباد ملزم کو سخت سزا دلانے کے اپنے وعدے کو پورا نہیں کرسکتی ۔ ایسے کچھ شبہات عوام کے ذہنوں میں گشت کررہے ہیں ۔ سائبرآباد پولیس کو بڑی ذمہ داری اور اعتماد کو جیتنے کا پھر ایک بار بہترین موقع ہاتھ آیاہے اور انصاف دلانے کیلئے پولیس کو سرگرم رول ادا کرنا پڑے گا ۔