معین منزل پر مندر کے ساتھ ہمہ منزلہ عمارت کی تعمیر کا اشتہاری ہورڈنگ ہٹا دیا گیا

   

قبضہ داروں کے خلاف کارروائی نہ کرنے اعلیٰ عہدیداروں کا دباؤ ، درگاہ حضرت حسین شاہ ولیؒ کا آج مقدمہ ، فائیلیں غائب
روزنامہ سیاست کی خبر کا اثر

حیدرآباد۔ 21اپریل(سیاست نیوز) قلب شہر میں موجود موقوفہ جائیداد’معین منزل‘ پر مندر کے ساتھ رہائشی ہمہ منزلہ عمارت کی تعمیر کا اشتہاری ہورڈنگ ہٹا دیاگیا۔ تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ نے ’’روزنامہ سیاست‘‘ کے ذریعہ مسلسل توجہ دہانی کے بعد سخت کاروائی کرتے ہوئے اس جائیداد پر قبضہ کی کوشش میں ملوث افراد کے خلاف کاروائی کا فیصلہ کیا گیا تھا لیکن وقف بورڈ کے عہدیداروں پر اعلیٰ سرکاری عہدیداروں کی جانب سے دباؤ ڈالتے ہوئے انہیں کاروائی سے گریز کا مشورہ دیا جانے لگا ہے۔ صدرنشین تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ جناب سید عظمت اللہ حسینی کی ہدایت پر چیف اکزیکیٹیو آفیسر جناب اسداللہ نے معین منزل معاملہ میں تمام تفصیلات اکٹھا کرتے ہوئے کاروائی کا آغاز کردیا تھا لیکن ذرائع کے مطابق اس معاملہ میں مزید پیشرفت نہ کرنے کی ہدایات موصول ہونے لگی ہیں جس کے نتیجہ میں اس انتہائی قیمتی جائیداد کے مقدمہ میں عدم پیشرفت اور قانونی طورپر اس جائیداد کے مقدمہ کو کمزور کرنے کی کوشش کرنے والوں کے خلاف فوجداری مقدمہ کے اندراج سے گریز کیا جانے لگا ہے۔ جناب سید عظمت اللہ حسینی نے بتایا کہ وقف بورڈ ان تمام جائیدادوں کے دستاویزات کا جائزہ لینے کے اقدامات کر رہا ہے جن جائیدادوں مقدمات میں بورڈ کو شکست ہوئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ معین منزل معاملہ میں توجہ دہانی کے ساتھ ہی بورڈ نے حرکت میں آتے ہوئے کاروائی کا آغاز کیا ہے اور جلد ہی عدالت سے رجوع ہوتے ہوئے راحت حاصل کرنے کے اقدامات کئے جائیں گے۔ صدرنشین وقف بورڈ کے مطابق ’معین منزل‘ کے موقوفہ ادارہ کے تحت موجود عابڈس میں لب سڑک موجود ملگی جو عرصہ دراز سے قانونی رسہ کشی کے سبب بند تھی اسے کھولنے کے معاملہ کی بھی تحقیقات کی جا رہی ہے اور معین منزل مقدمہ میں قابضین کو راحت حاصل کرنے کا موقع فراہم کرنے والوں کی نشاندہی کے علاوہ اس معاملہ میں ملوث افراد کے خلاف کاروائی بھی کرنے کے اقدامات کئے جارہے ہیں۔ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق سی ای او تلنگانہ وقف بورڈ جناب اسداللہ نے معین منزل مقدمہ کے علاوہ دیگر موقوفہ جائیدادوں کے مقدمات جن میں قانونی اعتبار سے وقف بورڈ کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے ان تمام فائیلوں کا جائزہ لینا شروع کردیا ہے اور جلد ہی وقف بورڈ کے سابقہ اسٹینڈنگ کونسل کے خلاف بار کونسل میں شکایت کرنے کے سلسلہ میں کاروائی کرنے والے تھے لیکن اعلیٰ عہدیدارجوسابق اسٹینڈنگ کونسل کی پشت پناہی کر رہے ہیں وہ چیف اکزیکیٹیو آفیسر کو کاروائی سے روک رہے ہیں جبکہ سی ای او نے اس معاملہ میں فوجداری مقدمہ کے اندراج کا بھی منصوبہ تیار کیا تھامگرایسا نہیں کیاگیا۔ معین منزل کے علاوہ دیگر مقدمات جن میں وقف بورڈ کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے ان میں بیشتر مقدمات کے دستاویزات وقف بورڈ کے شعبہ قانون سے غائب ہیں اور اس شعبہ میں خدمات انجام دینے والے عہدیدارچیف اکزیکیٹیو آفیسر کی جانب سے کئے جانے والے سوالات کے جواب دینے سے قاصر ہیں۔ بتایاجاتا ہے کہ سپریم کورٹ میں زیر دوراں مقدمات بالخصوص خصوصی درخواست مرافعہ کے کوئی دستاویزات وقف بورڈ کے شعبہ قانون میں موجود نہیں ہیں جبکہ 22 اپریل کو سپریم کورٹ میں درگاہ حسین شاہ ولی ؒ کی موقوفہ جائیداد کے مقدمہ کی سماعت ہونی ہے ۔تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ کے ذمہ داروں بالخصوص صدرنشین جناب سید عظمت اللہ حسینی اور اراکین بورڈ کو چاہئے کہ وہ ان مقدمات کی جانچ کا آغاز کریں جو منظم انداز میں عدالتوں میں شکست کے ذریعہ قابضین کو فائدہ پہنچانے کے مرتکب ہوئے ہیں اور ان افراد کے خلاف سخت کاروائی بالخصوص تلنگانہ ہائی کورٹ بار کونسل میںسابق اسٹینڈنگ کونسل کے خلاف شکایت کو یقینی بنانے کے لئے قرار داد منظور کریں اور ان کے پاس موجود تمام مقدمات کی فائیلوں کو واپس حاصل کرنے کے اقدامات کریں تاکہ عدالتوں میں زیر التواء مقدمات میں مستقبل میں کسی بھی مقدمہ میں شکست سے محفوظ رہا جاسکے ۔3