تلنگانہ اسمبلی میں متفقہ قرارداد، جنگ کے ہندوستان پر منفی اثرات: بھٹی وکرمارکا
حیدرآباد ۔30 ۔ مارچ (سیاست نیوز) ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرمارکا نے تلنگانہ قانون ساز اسمبلی میں قرارداد پیش کرتے ہوئے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ مغربی ایشیا میں جاری جنگ کو روکنے مساعی کریں ۔ بھٹی وکرمارکا کی پیش کردہ قرارداد کو ایوان میں متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا ۔ بھٹی وکرمارکا نے کہا کہ مغربی ایشیاء میں ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ مختلف زاویوں کی طرف پیشرفت کرتے ہوئے عالمی معیشت کو غیر مستحکم کرنے کا سبب بن رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خام تیل کے تحت پٹرول ، ڈیزل اور گیاس ہر ملک کی معاشی صورتحال پر بڑی حد تک اثرانداز ہوتے ہیں۔ جنگ کے نتیجہ میں خام تیل کی پیداوار متاثر ہوئی ہے اور ٹرانسپورٹیشن اور سپلائی چین میں خلل پڑا ہے۔ امریکہ ۔اسرائیل کی جانب سے ایران اور لبنان پر حملے کئے جارہے ہیں جبکہ ایران خلیج اور دیگر ممالک میں موجود امریکی دفاعی ٹھکانوں کو نشانہ بنارہا ہے۔ حملوں میں انتہائی عصری حالات کا استعمال ہورہا ہے۔ فائٹرس جنگی طیارے ، بیلسٹک میزائیل اور ڈرونس استعمال کئے جارہے ہیں جس کے نتیجہ میں بڑے پیمانہ پر تباہی ہورہی ہے ۔ جنگ کے نتیجہ میں تقریباً 4000 بے قصور افراد کی موت واقع ہوئی ہے۔ بڑے پیمانہ پر ہلاکتوں کے علاوہ معیشت کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ قرارداد میں کہا گیا کہ جانی نقصانات کے علاوہ جنگ میں شامل ممالک کی معیشت متاثر ہوئی ہے اور اس کا اثر دنیا بھر میں دکھائی دے رہا ہے۔ موجودہ صورتحال ایشیائی ممالک کے لئے خطرناک ہے اور ہندوستان پر بھی منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ قرارداد میں کہا گیا کہ وقت آچکا ہے کہ جنگ کو روکنے کی ضرورت ہے تاکہ دنیا کے مستقبل کو تباہی سے بچایا جاسکے۔ اگر صورتحال کو اسی طرح چھوڑ دیا گیا تو تیسری عالمی جنگ کا خطرہ لاحق ہوگا جو انسانیت کے وجود کیلئے خطرہ بن سکتی ہے۔ قرارداد میں حکومت ہند پر زور دیا گیا کہ وہ جنگ کے خاتمہ کیلئے مساعی کریں اور عالمی امن کے قیام کے اقدامات کئے جائیں۔تمام پارٹیوں نے قرارداد کی تائید کی۔1