گوداموں میں ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی قلت سے اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہونے کا امکان
حیدرآباد : /11 مارچ (سیاست نیوز) مغربی ایشیاء میں جاری جنگ کے اثرات اب عام آدمی کی روزمرہ زندگی پر بھی نظر آنے لگے ہیں ۔ ایران ۔ اسرائیل اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کے بعد نہ صرف گیس سلنڈر کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے بلکہ کھانا پکانے کے تیل ، دالوں اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بھی تیزی سے بڑھ گئی ہیں ۔ مارکٹ ذرائع کے مطابق بیرون ملک سے درآمد ہونے والے کوکنگ آئل ، دالوں اور تیل کے بیجوں کی قیمتوں میں حالیہ دنوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے ۔ کرانہ اسٹور سے لے کر آن لائن مارکٹوں تک بیشتر اشیاء مہنگی ہوچکی ہیں ۔ کوکنگ آئیل یعنی خوردنی تیل کی قیمتوں میں فی لیٹر 15 سے 25 روپئے تک اضافہ ہوا ہے ۔ سورج مکھی کے تیل کی قیمت جو فبروری کے اواخر تک تقریباً 150 روپئے فی لیٹر تھی اب بڑھکر 170 روپئے تک پہنچ چکی ہے ۔ اس طرح مونگ پھلی کے تیل اور پام آئیل کی قیمتوں میں بھی 15 سے 20 روپئے فی لیٹر تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے ۔ تاجر حلقوں کا کہنا ہے کہ بعض مقامات پر اسٹاک موجود ہونے کے باوجود چند تاجر مصنوعی قلت پیدا کرنے کیلئے ’’نو اسٹاک‘‘ کے بورڈ لگارہے ہیں تاکہ قیمتوں میں مزید اضافہ کیا جاسکے ۔ بیگم بازار اور سکندرآباد کی ہول سیل مارکٹس میں بھی قیمتوں میں اضافہ دیکھا جارہا ہے ۔ جس کا براہ راست اثر صارفین پر پڑرہا ہے ۔ دوسری جانب دالوں کی قیمتوں میں بھی زبردست اضافہ ہوا ہے ۔ یہ افواہیں گردش کررہی ہیں کہ خلیجی ممالک سے دالوں کی کھیپ لانے والے جہاز تاخیر کا شکار ہوگئے ہیں ۔ جس کے باعث بازار میں قیمتیں بڑھ گئی ہیں ۔ اوپن مارکٹ میں تور دال کی قیمت فی کلو 130 روپئے سے بڑھ کر 150 روپئے تک پہنچ گئی ہے جبکہ مونگ پھلی کی کم پیداوار کے باعث وہ 180 سے 200 روپئے فی کلو کے درمیان فروخت ہورہی ہے ۔ اس طرح مسور اور مونگ دال کی قیمتوں میں بھی اضافہ درج کیا گیا ہے ۔ تجارتی ذرائع کے مطابق اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی کی وجہ سے پیداواری ممالک ۔ تقسیم کاروں اور تاجروں کے درمیان سپلائی چین متاثر ہوئی ہے ۔ جس کے باعث اشیائے ضروریہ کی قیمتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں ۔ ادھر ہوٹل اور ریستوراں مالکان کا کہنا ہے کہ گیس ، کوکنگ آئل ، دال ، مرچ اور دیگر اشیاء کی قیمتوں میں اچانک اضافے سے کاروبار چلانا مشکل ہورہا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر قیمتوں میں اسی طرح اضافہ جاری رہا تو مجبوراً ٹفنس ، چپاتی اور دیگر کھانوں کی قیمتیں بھی بڑھانی پڑیں گی ۔ تاجروں اور عوام نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مصنوعی قلت اور ذخیرہ اندوزی کو روکنے کیلئے سخت اقدامات کئے جائیں تاکہ عام لوگوں کو مہنگائی سے کچھ راحت مل سکے ۔ 2