’’مغربی بنگال میں اسلامک اسٹڈیز‘‘ کے موضوع پر خطاب

   

اردو یونیورسٹی میں ’’اسلامی مطالعات‘‘ کے شمارہ کی رسم اجراء
حیدرآباد، 5؍ فروری (پریس نوٹ) ’’مدارس کے نظام تعلیم نے ہندوستانی مسلمانوں کی تعلیم وترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ مدرسہ عالیہ، کلکتہ کا شمار ہندوستان کے قدیم مدارس میں ہوتا ہے، یہ ادارہ علی گڑھ، دیوبند اور دہلی کے تعلیمی اداروں سے پہلے قائم ہوا۔ 1780 میں مسلمانان کلکتہ کی خواہش پر ہندوستان کے پہلے گورنر جنرل سر وارن ہیسٹنگز نے اس کا آغاز کیا ‘‘۔ ان خیالات کا اظہار جناب سید عبد الرشید صدر شعبہ اسلامک اسٹڈیز، عالیہ یونیورسٹی، کولکتہ نے شعبہ اسلامک اسٹڈیز، مولانا آزاد نیشنل اردو نیورسٹی میں اسلامی مطالعات فورم کے تحت منعقدہ پروگرام بعنوان ’’مغربی بنگال میں اسلامک اسٹڈیز – عالیہ یونیورسٹی کے حوالہ سے‘‘ میں کیا۔ 2007 میں مغربی بنگال کی حکومت نے مدرسہ عالیہ کو ایک یونیورسٹی کا درجہ دے دیا۔ اس وقت تقریباً 28 شعبہ جات بشمول شعبہ اسلامک اسٹڈیز یہاں قائم ہیں‘‘۔ انہوں نے مغربی بنگال میں اسلامک اسٹڈیز کی صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ’’آزادی سے پہلے رابندر ناتھ ٹیگور کی قائم کردہ یونیورسٹی میں نظام حیدرآباد کے تعاون سے عربی، فارسی اور اسلامک اسٹڈیز کے لئے ایک شعبہ قائم کیا گیا تھا۔ اسی زمانہ میں یونیورسٹی آف کلکتہ میں شعبہ اسلامک ہسٹری اینڈ کلچر 1942 سے قائم ہوا تھا۔‘‘اس موقع پر بزم طلبہ کی جانب سے نکلنے والے دیواری پرچہ ’’اسلامی مطالعات‘‘ کے دسویں شمارہ کی رسم اجراء مہمان مقرر کے ہاتھوں انجام پائی۔ صدر شعبہ پروفیسر محمد فہیم اختر نے اپنے صدارتی خطاب میں مہمان مقرر کا شکریہ ادا کیا۔ اس دیواری پرچہ کے مدیر مجتبیٰ فاروق ہیں اور اس کی تیاری ونگرانی میں جناب صالح امین نے حصہ لیا ہے۔ بزم طلبہ کے مشیر اور دیواری پرچہ کے نگراں ڈاکٹر شکیل احمد نے بھی شکریہ ادا کیا۔