مغربی بنگال کے نام کی تبدیلی کیلئے ممتا کی تجویز سے مرکز کا انکار

   

Ferty9 Clinic

نئی دہلی ۔ 3 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) مرکزی مملکتی وزیرداخلہ نتیانندرائے نے چہارشنبہ کو کہا کہ مغربی بنگال کا ’بنگلہ‘ کے طور پر تبدیل کرنے ممتابنرجی حکومت کی تجویز کو ہنوز منظوری نہیں دی ہے۔ نتیانندا رائے نے راجیہ سبھا میں ریتابراتا بنرجی کے تحریری سوال کے جواب میں یہ بات بتائی۔ اس سوال پر کہ آیا حکومت مغربی بنگال کی طرف سے اس ریاست کا نام تبدیل کرتے ہوئے ’بنگلہ‘ کا نیا نام رکھنے کی تجویز کو مرکز نے منظوری دی ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ ’جی نہیں صاحب‘۔ رائے نے مزید کہا کہ کسی ریاست کے نام کی تبدیلی کیلئے دستور میں ترمیم کی ضرورت ہوتی ہے اور تمام مناسب و متعلقہ پہلوؤں پر غور کے بعد یہ کام کیا جاسکتا ہے۔ مغربی بنگال اسمبلی گذشتہ سال 26 جولائی کو ریاست نام ’بنگلہ‘ کے طور پر تبدیل کرنے کیلئے متفقہ طور پر قرارداد منظور کی تھی۔ تین سب سے زیادہ بولی جانے والی زبانوں بنگالی، ہندی اور انگریزی میں ریاست کا نام ’بنگلہ‘ رکھنے کی تجویز مرکزی وزارت داخلہ کو روانہ کی گئی تھی۔ 2011ء میں اس ریاست کا نام ’پنچم بنگہ‘ رکھنے کی تجویز تھی لیکن مرکزی حکومت نے اس کو قبول کرنے سے انکار کردیا تھا۔ 2016ء میں یہ تجویز پیش کی گئی تھی کہ انگریزی میں ’بنگال‘ بنگالی میں ’بنگلہ‘ اور ہندی میں ’بنگہ‘ نام دینے کی تجویز بھی پیش کی گئی تھی لیکن یہ بھی مسترد کردی گئی تھی۔ بالآخر گذشتہ سال جولائی میں یہ تجویز پیش کی گئی تھی جو آج مسترد کردی گئی۔ واضح رہیکہ 2011ء میں آخری مرتبہ کسی ریاست کا نام تبدیل کیا گیا تھا جب اڑیسہ کا نام اڈیشہ رکھا گیا تھا۔ 1995ء میں بمبئی کا نام تبدیل کرتے ہوئے ممبئی رکھا گیا اور مدراس کا نام 1996ء میں چینائی رکھا گیا۔ 2001ء میں کلکتہ کا نام تبدیل کرتے ہوئے کولکتہ رکھا گیا۔ 2014ء میں کرناٹک کے 11 شہروں اور اضلاع کے نام تبدیل کئے گئے تھے ان میں بنگلور کے نام کی بطور بنگالورو تبدیلی بھی شامل ہے۔