ایران کے حالات پر ہندوستان کی گہری نظر‘وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال کا بیان
نئی دہلی۔21؍فروری ( ایجنسیز ) ہندوستان نے اقوام متحدہ کے 100 سے زائد رکن ممالک کے ساتھ مل کر ایک مشترکہ بیان پر دستخط کیے ہیں جس میں مغربی کنارے کے مقبوضہ فلسطینی علاقے میں اسرائیل کی توسیع کی مذمت کی گئی ہے۔ وزارت خارجہ نے جمعہ کو کہا کہ یہ کوئی بات چیت والا دستاویز نہیں تھا اور ہندوستان کا موقف پہلے ہی انڈیا۔عرب لیگ کے وزارتی سطح کے مشترکہ بیان میں واضح کیا جاچکا ہے۔وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا کہ دونوں فریقوں نے بین الاقوامی قانون، متعلقہ اقوام متحدہ کی قراردادوں اور عرب امن اقدام کے مطابق مشرق وسطیٰ میں ایک منصفانہ، مکمل اور دیرپا امن کے حصول کیلئے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے 1967 کی سرحدوں پر مبنی ایک خودمختار، آزاد اور قابل عمل فلسطینی ریاست کے قیام کا مطالبہ کیا جو اسرائیل کے ساتھ پْرامن طریقے سے رہے۔ دونوں فریق نے فلسطینی عوام کے ضروری حقوق کی حمایت کی۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے بیان میں بتائے گئے خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے خود کو اس پہل سے جوڑا ہے۔ جیسوال نے ہفتہ وار پریس کانفرنس میں کہا کہ میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ بیان جاری ہونے کے بعد کئی دیگر ممالک نے بھی خود کو اس سے جوڑا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے واشنگٹن ڈی سی میں بورڈ آف پیس کی پہلی میٹنگ میں بطور مبصر شرکت کی۔ جیسوال نے کہا کہ ہندوستان صدر ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کی پہل اور یو این ایس سی قرارداد کے تحت جاری کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔ایران کی صورت حال کا ذکر کرتے ہوئے جیسوال نے کہا کہ ہندوستان ایران میں پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ ہم نے وہاں رہنے والے ہندوستانیوں کو ایک ایڈوائزری بھی جاری کی ہے۔
بنگلہ دیش کی نئی حکومت کے ساتھ ہندوستان کے تعلقات کے بارے میں بات کرتے ہوئے جیسوال نے کہا کہ ہندوستان‘ بنگلہ دیش کے ساتھ اپنے کثیر جہتی دو طرفہ تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کا خواہش مند ہے۔جیسوال نے کہا کہ آپ کو معلوم ہو گا کہ وزیر اعظم نے بنگلہ دیش کے وزیر اعظم طارق رحمن کو ان کی انتخابی کامیابی کے فوراً بعد مبارکباد دی تھی۔ لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا نے 17 فروری 2026 کو حلف برداری کی تقریب میں شرکت کی اور وزیر اعظم مودی کی طرف سے وزیر اعظم رحمن کو ایک خط سونپا۔ خط میں بنگلہ دیش میں جمہوری، ترقی پسند اور سب کو ساتھ لے کر چلنے والے بنگلہ دیش کی حمایت کرنے کے ہندوستان کے عزم کو دہرایا گیا اور دو طرفہ تعلقات کو مزید مضبوط کرنے پر زور دیا گیا۔