مغربی کنارے کے درجنوں فلسطینی خاندان نقل مکانی پر مجبور

   

مغربی کنارہ : مقبوضہ مغربی کنارہ میں اسرائیلی فوج کی جنگی کارروائیاں مسلسل جاری ہیں۔ جس کے نتیجے میں درجنوں فلسطینی خاندان نقل مکانی پر مجبور ہو گئے ہیں۔ پیر کے روز نور شمس پناہ گزین کیمپ سے بھی متعدد خاندانوں نے نقل مکانی کر لی ہے۔نور شمس پناہ گزین کیمپ مقبوضہ مغربی کنارے کے شمال میں ہے۔ غزہ میں جنگ بندی کے بعد سے اسرائیلی فوج نے مغربی کنارے میں اپنی کارروائیاں پہلے سے بھی تیز کر دی تھیں۔احد اعزا نامی فلسطینی شہری نے اس بارے میں بات کرتے ہوئے کہا ‘ ہم مسلسل دھماکوں اور بمباری کی آوازیں سن رہیہیں۔ اس کے ساتھ ہی بلڈوزروں کے ساتھ فلسطینیوں کے گھروں کی مسماری بھی جاری ہے۔ اسرائیلی فوجی یہاں بھی وہی کچھ کر رہے ہیں جو وہ غزہ میں کر رہے تھے۔’احمد ابو زہرا مغربی کنارے کے علاقے طولکرم کیرہائشی ہیں۔ انہوں نیکہا ‘ ہمیں اپنے گھروں سے نکل جانے پر مجبور کر دیا گیا ہے۔ اسرائیلی فوجی آئے اور انہوں نے ہمارے گھر مسمار کرنا شروع کر دیے۔’ ان حالات میں مقامی فلسطینی خاندان بارش کے باوجود اپنے گھر چھور کر نقل مکانی پر مجبور تھے۔خیال رہے اتوار کے روز دو فلسطینی خواتین سمیت تین فلسطینی مغربی کنارے کے نور شمس پناہ گزین کیمپ میں اسرائیلی فوج نے شہید کیے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ ایک فلسطینی خاتون کے ہاں اگلے ماہ بچے کی پیدائش متوقع تھی۔فلسطینی وزارت صحت نے بھی ان واقعات کی تصدیق کی تھی۔ اسرائیلی فوج ایسی خواتین کو ایک پالیسی کے تحت چن چن کر شہید کرتی ہے۔جبکہ اسرائیلی فوج کی پولیس نے انکوائری کرنے کا بتایا ہے۔ تاہم مقامی فلسطینی اس طرح کی اسرائیلی انکوائریوں کو محض دھوکہ سمجھتے ہیں۔