مفادات کی تکمیل کیلئے تلنگانہ میں آئی اے ایس عہدیداروں کا استعمال

   

منحرف ارکان اسمبلی کے خلاف کارروائی نہیں کی گئی، بھٹی وکرمارکا کا بیان
حیدرآباد ۔ 26 ۔ نومبر (سیاست نیوز) سی ایل پی لیڈر بھٹی وکرمارکا نے آر ٹی سی ملازمین کو ڈیوٹی پر رجوع کرنے سے انتظامیہ کے انکار کو بدبختانہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ آئی اے ایس عہدیداروں کو استعمال کرتے ہوئے حکومت اپنے مفادات کی تکمیل کر رہی ہے ۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے سی ایل پی لیڈر نے کہا کہ آئی اے ایس عہدیدار اپنے حدود سے تجاوز کرتے ہوئے حکومت کے مفادات کی تکمیل کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کے سی آر اور اسپیکر پوچارم سرینواس ریڈی کو دستور کا احترام کرنا چاہئے ۔ کانگریس کے منحرف ارکان اسمبلی کے خلاف کی گئی شکایتوں پر اسپیکر نے کوئی کارروائی نہیں کی۔ قانون انحراف کی مخالفت کرنے والوں کا تحفظ کیا گیا ۔ انہوں نے سوال کیا کہ کے سی آر کی نظر میں دستور کی کوئی اہمیت نہیں ہے ۔ بھٹی وکرمارکا نے کہا کہ دستور پر عمل آوری میں 70 سال کی تکمیل کا جشن منایا جارہا ہے لیکن چیف منسٹر تلنگانہ عوام کے دستوری حقوق کو پامال کر رہے ہیں۔ کانگریس کے 12 ارکان اسمبلی کو منحرف کرتے ہوئے سی ایل پی کے انضمام کا اعلان کردیا گیا۔ 12 ارکان نے ایک بھی اجلاس کئے بغیر ٹی آر ا یس میں انضمام کا فیصلہ اس طرح کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملہ میں اسپیکر کے رویہ سے کانگریس کو مایوسی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر نے اس مسئلہ پر ایوان کو گمراہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ اپوزیشن کو کمزور کرنے کیلئے انحراف کی حوصلہ افزائی کی گئی ۔ بھٹی وکرمارکا نے آر ٹی سی کیلئے مستقل مینجنگ ڈائرکٹر کا تقرر نہ کرنے پر اعتراض جتایا اور کہا کہ حکومت کارگزار مینجنگ ڈائرکٹر کے ذریعہ اپنے مفادات کی تکمیل کر رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وزیر ٹرانسپورٹ سے زیادہ آئی اے ایس عہدیدار بیان بازی کر رہے ہیں۔ کے سی آر چاہتے ہیں کہ چند پولیس عہدیداروں اور آئی اے ایس عہدیداروں کے ذریعہ حکومت چلائیں لیکن جمہوریت میں یہ ممکن نہیں ہے۔ سی ایل پی لیڈر نے کہا کہ کانگریس پارٹی عوامی جدوجہد جاری رکھے گی اور عوام کے سی آر کو مناسب سبق سکھائیں گے ۔