حیدرآباد ۔8 ۔ جون (سیاست نیوز) سپریم کورٹ میں مفاد عامہ کی درخواستوں کی قبولیت کے سلسلہ میں رجسٹری کے عہدیداروں کے رویہ کے خلاف قانون کے طالب علم نوین نے آج اندرا پارک پر احتجاج منظم کرتے ہوئے چیف جسٹس آف انڈیا ڈی وائی چندر چوڑ کو یادداشت روانہ کی ہے۔ ان کہنا ہے کہ قانون کے طلبہ اور عوام جب کسی وکیل کے بغیر سپریم کورٹ میں مفاد عامہ کی درخواست دائر کرتے ہپں تو رجسٹری میں متعلقہ سیکشن کا اسٹاف قبول کرنے سے گریز کرتے ہوئے فائل کو سماعت کی فہرست میں شامل نہیں کر رہے ہیں ۔ اس طرح عوام کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کی جارہی ہے ۔ چیف جسٹس آف انڈیا نے واضح طور پر کہا تھا کہ وکلاء اور قانون کے طلبہ کی رسائی کو آسان بنایا جائے ۔ نوین نے شکایت کی ہے کہ چیف جسٹس کے احکامات کے باوجود عہدیداروںکا رویہ تبدیل نہیں ہوا۔ جنوبی ہند سے تعلق رکھنے والے افراد کے ساتھ جانبدارانہ رویہ برقرار ہے۔ ر
انہوں نے چیف جسٹس سے اپیل کی کہ وہ رجسٹری عملہ کو مفاد عامہ کی درخواست قبول کرنے کی ہدایت دیں۔ر