معاشرہ کی اصلاح کیلئے مولانا مرحوم کی نمایاںخدمات،نرمل کے علماء کا اظہار تعزیت
نرمل : تلنگانہ وآندھرا کے ممتاز ومستند ،صاحبِ نسبت عالمِ دین رہبرِ قوم وملت حضرت مولانا مفتی عبدالمغنی مظاہری کا شمار جنوبی ہند کے مقبول ومشفق، اور ممتاز اکابر علمائے دیوبند میں ہوتاتھا، مولانا مرحوم کے تقریباً پچاس سالہ اصلاحی و تعلیمی سرگرمیوں سے ہزاروں تشنگانِ علم ومعرفت سیراب ہوئے۔ ان کے انتقال پر شہرِ نرمل کی رفاہی وفلاحی تنظیم صراطِ مستقیم ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر سوسائٹی کے ذمہ دار علمائے کرام نے گہرے رنج و الم کااظہارکرتے ہوئے کہاکہ مفتی صاحب کی وفات علمی حلقوں بالخصوص فرزندانِ دارالعلومِ مجلس دعوۃ الحق کیلئے ایک عظیم خسارے سے کم نہیں،مفتی صاحب کی وفات پر سرپرستِ تنظیم صراطِ مستقیم سوسائٹی ،مولانا عبدالعلیم قاسمی نائب قاضی
نرمل نے تعزیت کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ مفتی عبدالمغنی کا سانحہ ارتحال امت کیلئے بالخصوص اہلِ تلنگانہ کیلئے عظیم خسارہ ہے ، مفتی صاحب ان چند گنی چنی شخصیات میں سے تھے جن کو بزرگوں کا اعتماد حاصل تھا خاص طور پر محی الحسن حضرت مولانا ابرار الحق کی صحبت کا اثر مفتی صاحب کی شخصیت میں نمایاں طور پر محسوس کیا جاتا تھا سنت کی اشاعت تعلیم قرآن کی ترویج میں سوسائٹی کے نائب صدر مولانا امتیاز خان مفتاحی نقشبندی نے مرحوم کی رحلت کو علمی ودینی خسارے سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ مولانا مرحوم کی شہر حیدرآباد و ریاست تلنگانہ میں علمی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔آپ کی اصلاحی سرگرمیوں کے علاوہ رفاہی و فلاحی خدمات بھی نمایاں تھیں،انہوں نے مزید کہا کہ آج اگرچہ مفتی صراط مستقیم ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر سوسائٹی کے صدر مفتی احسان شاہ قاسمی نے مفتی عبدالمغنی صاحب مظاہری کے انتقال پر انتہائی دْکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ مولانا مرحوم کا انتقال عظیم ملی و دینی خسارہ ہے ۔
