عوام میں ناراضگی، رجسٹریشن میں آدھار ختم تو پھر پانی کی سربراہی میں کیوں؟
حیدرآباد۔ گریٹر حیدرآباد کے حدود میں عوام کو مفت پانی کی سربراہی اسکیم سے آدھار کو مربوط کرنے کے فیصلہ پر عوام میں ناراضگی پائی جاتی ہے۔ ٹی آر ایس نے انتخابی منشور میں وعدہ کیا تھا کہ ہر گھر کو 20,000 لیٹر پانی مفت سربراہ کیا جائے گا۔ حکومت نے انتخابات کے بعد اس سلسلہ میں سرکاری احکامات جاری کئے تاہم اسکیم سے استفادہ کیلئے آدھار کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔ حکومت کے اس فیصلہ سے عوام میں ناراضگی پائی جاتی ہے اور ٹی آر ایس کے نومنتخب کارپوریٹرس سے نمائندگی کی جارہی ہے کہ اس سلسلہ میں حکومت کو احکامات کی تبدیلی کیلئے نمائندگی کریں۔ عوام کا کہنا ہے کہ آدھار کے لزوم کے نتیجہ میں اپارٹمنٹس اور کالونیوں میں رہنے والے عوام کو اسکیم سے استفادہ کا موقع نہیں ملے گا۔ سیاسی جماعتوں نے اس فیصلہ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اراضیات کے رجسٹریشن کے سلسلہ میں جب ہائی کورٹ نے آدھار کے لزوم کو منسوخ کردیا تو پھر پانی سربراہی اسکیم کیلئے آدھار کا لزوم بے معنی ہے۔ آدھار تفصیلات کا حاصل کرنا اسکیم پر عمل آوری میں حکومت کی عدم سنجیدگی کو ظاہر کرتا ہے۔ بائیں بازو کی جماعتوں نے جی او ایم ایس 211 کی مخالفت کی ہے۔ سی پی آئی کے گریٹر حیدرآباد سکریٹری ایم سرینواس نے کہا کہ سیاسی فائدہ حاصل کرنے کیلئے یہ وعدہ کیا گیا اور انتخابات کے بعد آدھار کی شرط عائد کرنا مناسب نہیں ہے۔ اسی دوران عہدیداروں نے بتایا کہ اسکیم پر عمل آوری کے طریقہ کار کو طئے کرنا باقی ہے۔
