ڈی آر ڈی او حکام سے بات چیت کے بعد فیصلہ ہوگا، صدر نشین وقف بورڈ محمد سلیم کا بیان
حیدرآباد۔/11 اکٹوبر، ( سیاست نیوز) صدر نشین وقف بورڈ محمد سلیم نے آج ریونیو اور وقف عہدیداروں کے ہمراہ قطب شاہی مقبرہ روشن الدولہ بالا پور کی اوقافی اراضی کا معائنہ کیا۔ انہوں نے مسجد عالمگیر اور اس سے متصل قبرستان کا معائنہ کرتے ہوئے اراضی اور قبرستان و مسجد کے تحفظ کے سلسلہ میں ہدایات جاری کیں۔ واضح رہے کہ سروے نمبر 51/3 کے تحت 6 ایکر 18 گنٹے اراضی موجود ہے اور دفاعی تحقیق کے ادارہ DRDO نے اراضی الاٹ کرنے کیلئے وقف بورڈ میں درخواست داخل کی ہے۔ ڈی آر ڈی او اپنے ریسرچ سنٹر کو توسیع دینے کا منصوبہ رکھتا ہے جو کہ وقف اراضی سے متصل ہے۔ صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم نے کہا کہ یہ نوٹیفائیڈ وقف پراپرٹی ہے جو گزٹ نمبر 6-A مورخہ 9 فبروری 1989 کے صفحہ نمبر 240 پر درج ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈیفنس عہدیداروں کے ساتھ اجلاس میں اراضی کو حوالے کرنے کے بارے میں کوئی فیصلہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ مقبرہ روشن الدولہ کی اراضی کا معاملہ عدالت میں زیر دوران ہے اور وقف بورڈ نے سینئر ایڈوکیٹ پرکاش ریڈی کی خدمات حاصل کی ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ وقف اراضی کو خریدنے سے گریز کریں کیونکہ وقف تا قیامت وقف ہوتی ہے اور اسے منتقل نہیں کیا جاسکتا۔ اراضی پر مسجد عالمگیر کے علاوہ دو گنبد بھی موجود ہیں اور ان کا تحفظ وقف بورڈ کے پیش نظر ہے۔ ڈیفنس حکام سے بات چیت میں مسجد، مقبرہ اور قبرستان کے تحفظ کی شرط رکھی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ وقف بورڈ کو ہائی کورٹ میں کامیابی حاصل ہوگی کیونکہ وقف اراضی سے متعلق تمام دستاویزات اور شواہد موجود ہیں۔ صدر نشین وقف بورڈ نے بالا پور کے علاقہ میں واقع ایک غیر آباد مسجد اور قبرستان کا معائنہ کرتے ہوئے مقامی افراد سے بات چیت کی۔ انہوں نے کہا کہ مسجد کو آباد کرنے اور قبرستان کے تحفظ کے سلسلہ میں وقف بورڈ ہر ممکن تعاون کرے گا۔ محمد سلیم نے مقامی افراد کو مشورہ دیا کہ وہ پنج وقتہ نمازوں کا اہتمام کرتے ہوئے مسجد کو آباد رکھیں اور کسی بھی ضرورت کیلئے وقف بورڈ سے رجوع ہوسکتے ہیں۔ اس دورہ میں چیف ایکزیکیٹو آفیسر وقف بورڈ عبدالحمید اور تحصیلدار سرورنگر منڈل سرینواس ریڈی اور دیگر عہدیدار موجود تھے۔